جامع الترمذي حدیث نمبر: 2615
Jami at-Tirmidhi 2615
کتاب #41: کتاب: ایمان و اسلام
7: باب مَا جَاءَ أَنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الإِيمَانِ
باب: حیاء ایمان کا ایک حصہ ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، المعنى واحد، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ " , قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ , قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وفي الباب عن أَبِي هُرَيْرَةَ , وَأَبِي بَكْرَةَ , وَأَبِي أُمَامَةَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے وہ اپنے بھائی کو حیاء ( شرم اور پاکدامنی ) اختیار کرنے پر نصیحت کر رہا تھا ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بطور تاکید ) فرمایا : ” حیاء ایمان کا ایک حصہ ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- احمد بن منیع نے اپنی روایت میں کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حیاء کے بارے میں اپنے بھائی کو پھٹکارتے ہوئے سنا ، ¤ ۳- اس باب میں ابوہریرہ ، ابوبکرہ اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2615]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے حیاء کی فضیلت و اہمیت ثابت ہے، ایک باحیاء انسان اپنی زندگی میں حیاء سے پورا پورا فائدہ اٹھاتا ہے، کیونکہ حیاء انسان کو گناہوں سے روکتی اور نیکیوں پر آمادہ کرتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (58)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الإیمان 16 (24)، والأدب 77 (6118)، صحیح مسلم/الإیمان 12 (36)، سنن ابی داود/ الأدب 7 (4795)، سنن النسائی/الإیمان 27 (5036)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 9 (58) (تحفة الأشراف: 6828)، وط/حسن الخلق 2 (10)، و مسند احمد (2/56، 147) (صحیح)