جامع الترمذي حدیث نمبر: 2622
Jami at-Tirmidhi 2622
کتاب #41: کتاب: ایمان و اسلام
9: باب مَا جَاءَ فِي تَرْكِ الصَّلاَةِ
باب: نماز چھوڑ دینے پر وارد وعید کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ: " كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , لَا يَرَوْنَ شَيْئًا مِنَ الْأَعْمَالِ تَرْكُهُ كُفْرٌ غَيْرَ الصَّلَاةِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: سَمِعْت أَبَا مُصْعَبٍ الْمَدَنِيَّ , يَقُولُ: مَنْ قَالَ الْإِيمَانُ قَوْلٌ يُسْتَتَابُ فَإِنْ تَابَ وَإِلَّا ضُرِبَتْ عُنُقُهُ.
عبداللہ بن شقیق عقیلی کہتے ہیں کہ صحابہ کرام ( رضی الله عنہم ) نماز کے سوا کسی عمل کے چھوڑ دینے کو کفر نہیں سمجھتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ میں نے ابومصعب مدنی کو کہتے ہوئے سنا کہ جو یہ کہے کہ ایمان صرف قول ( یعنی زبان سے اقرار کرنے ) کا نام ہے اس سے توبہ کرائی جائے گی ، اگر اس نے توبہ کر لی تو ٹھیک ، ورنہ اس کی گردن مار دی جائے گی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2622]
قال الشيخ الألباني:
صحيح صحيح الترغيب (1 / 227 / 564)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: لم یذکرہ المزي في المراسیل) (صحیح)