جامع الترمذي حدیث نمبر: 2637
Jami at-Tirmidhi 2637
کتاب #41: کتاب: ایمان و اسلام
16: باب مَا جَاءَ فِيمَنْ رَمَى أَخَاهُ بِكُفْرٍ
باب: اپنے مسلمان بھائی کو کافر ٹھہرانے والا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ بْنِ أَنَسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ قَالَ لِأَخِيهِ كَافِرٌ فَقَدْ بَاءَ بِهِ أَحَدُهُمَا " , هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ بَاءَ يَعْنِي: أَقَرَّ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر کسی نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا تو ان دونوں میں سے ایک نے ( گویا کہ ) اپنے کافر ہونے کا اقرار کر لیا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- «باء» ، «أقر» کے معنی میں ہے ، یعنی اقرار کیا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2637]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ کسی مومن کو کافر، کافر ہی کہہ سکتا ہے، ایک مومن دوسرے مومن کو کافر نہیں کہہ سکتا، اگر کہتا ہے تو جس کو کہا ہے وہ حقیقت میں اگر کافر کہلانے کا مستحق ہے تو وہ کافر ہے، ورنہ کہنے والا اس کے سزا میں کفر کے وبال میں مبتلا ہو گا۔ اس لیے کوئی بات سوچ سمجھ کر اور زبان کو قابو میں رکھ کر ہی کہنی چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأدب 73 (6104)، صحیح مسلم/الإیمان 26 (60) (تحفة الأشراف: 7233)، وط/الکلام 1 (1)، و مسند احمد (2/18، 44، 60) (صحیح)