جامع الترمذي حدیث نمبر: 2633
Jami at-Tirmidhi 2633
کتاب #41: کتاب: ایمان و اسلام
14: باب مَا جَاءَ فِي عَلاَمَةِ الْمُنَافِقِ
باب: منافق کی پہچان کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، عَنْ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَعَدَ الرَّجُلُ وَيَنْوِي أَنْ يَفِيَ بِهِ فَلَمْ يَفِ بِهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ، عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ثِقَةٌ، وَلَا يُعْرَفُ أَبُو النُّعْمَانِ وَلَا أَبُو وَقَّاصٍ وَهُمَا مَجْهُولَانِ.
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب آدمی کسی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے گا لیکن وہ ( کسی عذر و مجبوری سے ) پورا نہ کر سکا تو اس پر کوئی گناہ نہیں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- اس کی اسناد قوی نہیں ہے ، ¤ ۳- علی بن عبدالاعلی ثقہ ہیں ، ابونعمان اور ابووقاص غیر معروف ہیں اور دونوں ہی مجہول راوی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2633]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ایسا شخص منافقین کے زمرہ میں نہ آئے گا، کیونکہ اس کی نیت صالح تھی اور عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (4881)، الضعيفة (1447) // ضعيف الجامع الصغير (723) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2633) إسناده ضعيف / د 4995
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأدب 90 (4995) (تحفة الأشراف: 3693) (ضعیف) (مولف نے وجہ بیان کر سنن الدارمی/ ہے)