سنن النسائي حدیث نمبر: 367
Sunan an-Nasa'i 367
کتاب #6: کتاب: حیض اور استحاضہ کے احکام و مسائل
6: بَابُ : الْفَرْقِ بَيْنَ دَمِ الْحَيْضِ وَالاِسْتِحَاضَةِ
باب: حیض اور استحاضہ کے خون میں فرق کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قال: سَمِعْتُ هِشَامًا يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، قالت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَطْهُرُ، أَفَأَتْرُكُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: " لَا إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ، قَالَ خَالِدٌ: وَفِيمَا قَرَأْتُ عَلَيْهِ، وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ، ثُمَّ صَلِّي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں ، کیا نماز ترک کر دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں یہ تو رگ ( کا خون ) ہے ، ( خالد کہتے ہیں : اور اس روایت میں جسے میں نے ہشام پر پڑھا ہے «وليست بالحيضة» کا جملہ نہیں ہے ) تو جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو ، اور جب ختم ہو جائے تو اپنے ( جسم ) سے خون دھو لو ، پھر نماز پڑھو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 367]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 220 (صحیح)