📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: حیض اور استحاضہ کے احکام و مسائل (كتاب الحيض والاستحاضة) 🏷️ باب: باب: حائضہ سے استفادہ کا بیان اور اللہ عزوجل کے فرمان: «ويسألونك عن المحيض» کی تفسیر۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 369 Sunan an-Nasa'i 369
کتاب #6: کتاب: حیض اور استحاضہ کے احکام و مسائل
8: بَابُ : مَا يُنَالُ مِنَ الْحَائِضِ وَتَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ } الآيَةَ
باب: حائضہ سے استفادہ کا بیان اور اللہ عزوجل کے فرمان: «ويسألونك عن المحيض» کی تفسیر۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: كَانَتْ الْيَهُودُ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَلَا يُشَارِبُوهُنَّ وَلَا يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ، فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى سورة البقرة آية 222 الْآيَةَ، " فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَيُشَارِبُوهُنَّ وَيُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ، وَأَنْ يَصْنَعُوا بِهِنَّ كُلَّ شَيْءٍ مَا خَلَا الْجِمَاعَ"، فَقَالَتْ الْيَهُودُ: مَا يَدَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلَّا خَالَفَنَا، فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ فَأَخْبَرَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَا: أَنُجَامِعُهُنَّ فِي الْمَحِيضِ؟ فَتَمَعَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَعُّرًا شَدِيدًا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ غَضِبَ، فَقَامَا فَاسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةَ لَبَنٍ فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمَا فَرَدَّهُمَا فَسَقَاهُمَا، فَعُرِفَ أَنَّهُ لَمْ يَغْضَبْ عَلَيْهِمَا.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود کی عورتیں جب حائضہ ہو جاتیں تھی تو وہ ان کے ساتھ نہ کھاتے پیتے اور نہ انہیں اپنے ساتھ گھروں میں رکھتے تھے ، تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اس کے متعلق ) پوچھا ، تو اللہ عزوجل نے آیت کریمہ : «ويسألونك عن المحيض قل هو أذى» ” آپ سے لوگ حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں تو آپ کہہ دیجئیے وہ گندگی ہے “ ( البقرہ : ۲۲۲ ) نازل فرمائی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ کھائیں پئیں اور انہیں اپنے گھروں میں رکھیں ، اور جماع کے علاوہ ان کے ساتھ سب کچھ کریں ، اس پر یہود کہنے لگے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی معاملہ ایسا نہیں چھوڑتے جس میں ہماری مخالفت نہ کرتے ہوں ، اس پر اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہم دونوں اٹھے ، اور جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی ، اور کہنے لگے : کیا ہم حیض کے دنوں میں ان سے جماع نہ کریں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سخت متغیر ہو گیا یہاں تک کہ ہم نے سمجھا کہ آپ ناراض ہو گئے ہیں ، ( اسی دوران ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا تحفہ آیا ، تو آپ نے ان کے پیچھے ( آدمی ) بھیجا وہ انہیں بلا کر لایا ، آپ نے ان کو دودھ پلایا ، تو اس سے جانا گیا کہ آپ ان دونوں سے ناراض نہیں ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 369]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 289 وھو مختصر (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #369
367 368 369 370 371
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ