سنن النسائي حدیث نمبر: 3320
Sunan an-Nasa'i 3320
کتاب #30: کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
52: بَابُ : لَبَنِ الْفَحْلِ
باب: عورت کے دودھ پلانے سے اس کے شوہر سے بھی رشتہ قائم ہوتا ہے۔
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ , وَإِسْحَاق بْنُ بَكْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ، يَسْتَأْذِنُ، فَقُلْتُ: لَا آذَنُ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ لَهُ: جَاءَ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ يَسْتَأْذِنُ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَقَالَ: " ائْذَنِي لَهُ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ" قُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةُ أَبِي الْقُعَيْسِ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ: " ائْذَنِي لَهُ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح ( میرے پاس گھر میں آنے کی ) اجازت مانگنے آئے ، میں نے کہا : میں جب تک خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہ لے لوں انہیں اجازت نہ دوں گی ، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے بتایا کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح آئے تھے اور اندر آنے کی اجازت مانگ رہے تھے ، تو میں نے انہیں اجازت نہیں دی ، آپ نے فرمایا : ” ( نہیں ) انہیں اجازت دے دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں “ ، میں نے کہا : مجھے تو ابوالقعیس کی بیوی نے دودھ پلایا ہے ، مرد نے نہیں پلایا ہے ۔ آپ نے فرمایا : ” ( بھلے سے مرد نے نہیں پلایا ہے ) تم انہیں آنے دو ، وہ تمہارے چچا ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3320]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 3302 (صحیح)