سنن النسائي حدیث نمبر: 3318
Sunan an-Nasa'i 3318
کتاب #30: کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
52: بَابُ : لَبَنِ الْفَحْلِ
باب: عورت کے دودھ پلانے سے اس کے شوہر سے بھی رشتہ قائم ہوتا ہے۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , أَنْبَأَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ وَهُوَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: " ائْذَنِي لَهُ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ نَزَلَ الْحِجَابُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح جو میرے رضاعی چچا ہوتے تھے میرے پاس آنے کی اجازت مانگ رہے تھے تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ کو یہ بات بتائی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم انہیں اجازت دے دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں “ ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : یہ واقعہ پردہ کی آیت کے نزول کے بعد کا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3318]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/النکاح 22 (5103)، صحیح مسلم/الرضاع 2 (1445)، (تحفة الأشراف: 16597)، موطا امام مالک/الرضاع 1 (3)، مسند احمد (6/177) (صحیح)