سنن النسائي حدیث نمبر: 3315
Sunan an-Nasa'i 3315
کتاب #30: کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
52: بَابُ : لَبَنِ الْفَحْلِ
باب: عورت کے دودھ پلانے سے اس کے شوہر سے بھی رشتہ قائم ہوتا ہے۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهَا , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا وَأَنَّهَا سَمِعَتْ رَجُلًا يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُرَاهُ فُلَانًا لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ"، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ فُلَانٌ حَيًّا لِعَمِّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ دَخَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا يُحَرَّمُ مِنَ الْوِلَادَةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف فرما تھے تو انہوں نے سنا کہ ایک آدمی حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کر رہا ہے ، تو میں نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ شخص آپ کے گھر میں اندر آنے کی اجازت طلب کر رہا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” میں نے اسے پہچان لیا ہے ، وہ حفصہ کا رضاعی چچا ہے “ ، میں نے کہا : اگر فلاں میرے رضاعی چچا زندہ ہوتے تو میرے یہاں بھی آیا کرتے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رضاعت ( دودھ کا رشتہ ) ویسے ہی ( نکاح کو ) حرام کرتا ہے جیسے ولادت ( نسل ) میں ہونے سے حرمت ہوتی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3315]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الشہادات 7 (2646)، الخمس 4 (3105)، النکاح20 (5099)، صحیح مسلم/الرضاع 1 (1444)، (تحفة الأشراف: 17900)، موطا امام مالک/الرضاع 1 (1)، مسند احمد (6/44، 51، 178، سنن الدارمی/النکاح 49 (2299) (صحیح)