سنن النسائي حدیث نمبر: 3319
Sunan an-Nasa'i 3319
کتاب #30: کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
52: بَابُ : لَبَنِ الْفَحْلِ
باب: عورت کے دودھ پلانے سے اس کے شوہر سے بھی رشتہ قائم ہوتا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ عَمِّي أَفْلَحُ بَعْدَمَا نَزَلَ الْحِجَابُ، فَلَمْ آذَنْ لَهُ، فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " ائْذَنِي لَهُ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ: " ائْذَنِي لَهُ تَرِبَتْ يَمِينُكِ فَإِنَّهُ عَمُّكِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے چچا افلح نے پردہ کی آیت کے اترنے کے بعد میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی ، تو میں نے انہیں اجازت نہیں دی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، تو میں نے آپ سے اس بارے میں پوچھا ۔ آپ نے فرمایا : ” انہیں اجازت دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں “ ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں پلایا ہے ( وہ میرے محرم کیسے ہو گئے ) ، آپ نے فرمایا : ” تم انہیں ( اندر ) آنے کی اجازت دو ، تمہارے ہاتھ میں مٹی لگے ( تمہیں نہیں معلوم ؟ ) وہ تمہارے چچا ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3319]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الرضاع 2 (1445)، سنن ابن ماجہ/النکاح 38 (1948)، (تحفة الأشراف: 16443، 16926) (صحیح)