سنن النسائي حدیث نمبر: 3322
Sunan an-Nasa'i 3322
کتاب #30: کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
53: بَابُ : رَضَاعِ الْكَبِيرِ
باب: بڑے کو دودھ پلانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْنَاهُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ عَلَيَّ، قَالَ: " فَأَرْضِعِيهِ" قَالَتْ: وَكَيْفَ أُرْضِعُهُ وَهُوَ رَجُلٌ كَبِيرٌ، فَقَالَ: " أَلَسْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ رَجُلٌ كَبِيرٌ" ثُمَّ جَاءَتْ بَعْدُ، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا، مَا رَأَيْتُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ بَعْدُ شَيْئًا أَكْرَهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، اور کہا : میں سالم کے اپنے پاس آنے جانے سے ( اپنے شوہر ) ابوحذیفہ کے چہرے میں کچھ ( تبدیلی و ناگواری ) دیکھتی ہوں ، آپ نے فرمایا : ” تم انہیں اپنا دودھ پلا دو “ ، انہوں نے کہا : میں انہیں کیسے دودھ پلا دوں وہ تو بڑے ( عمر والے ) آدمی ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” کیا مجھے معلوم نہیں ہے کہ وہ بڑی عمر کے ہیں “ ، اس کے بعد وہ ( دودھ پلا کر پھر ایک دن ) آئیں اور کہا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو نبی بنا کر حق کے ساتھ بھیجا ہے ! میں نے اس کے بعد ابوحذیفہ کے چہرے پر کوئی ناگواری کی چیز نہیں دیکھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3322]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الرضاع 7 (1453)، سنن النسائی/النکاح 36 (1943)، (تحفة الأشراف: 17484)، مسند احمد (6/38) (صحیح)