سنن النسائي حدیث نمبر: 3324
Sunan an-Nasa'i 3324
کتاب #30: کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
53: بَابُ : رَضَاعِ الْكَبِيرِ
باب: بڑے کو دودھ پلانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ سَهْلَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَالِمًا يَدْخُلُ عَلَيْنَا، وَقَدْ عَقَلَ مَا يَعْقِلُ الرِّجَالُ، وَعَلِمَ مَا يَعْلَمُ الرِّجَالُ، قَالَ: " أَرْضِعِيهِ تَحْرُمِي عَلَيْهِ بِذَلِكَ"، فَمَكَثْتُ حَوْلًا لَا أُحَدِّثُ بِهِ وَلَقِيتُ الْقَاسِمَ، فَقَالَ: حَدِّثْ بِهِ وَلَا تَهَابُهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سہلہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے کہا : اللہ کے رسول ! سالم ہمارے پاس آتا جاتا ہے ( اب وہ بڑا ہو گیا ہے ) جو باتیں لوگ سمجھتے ہیں وہ بھی سمجھتا ہے اور جو باتیں لوگ جانتے ہیں وہ بھی جان گیا ہے ( اور اس کا آنا جانا بھی ضروری ہے ) آپ نے فرمایا : ” تو اسے اپنا دودھ پلا دے تو اپنے اس عمل سے اس کے لیے حرام ہو جائے گی “ ۔ ابن ابی ملیکہ ( اس حدیث کے راوی ) کہتے ہیں : میں نے اس حدیث کو سال بھر کسی سے بیان نہیں کیا ، پھر میری ملاقات قاسم بن محمد سے ہوئی ( اور اس کا ذکر آیا ) تو انہوں نے کہا : اس حدیث کو بیان کرو اور اس کے بیان کرنے میں ( شرماؤ ) اور ڈرو نہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3324]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الرضاع 7 (1453)، (تحفة الأشراف: 17464)، مسند احمد (6/201) (صحیح)