سنن النسائي حدیث نمبر: 3323
Sunan an-Nasa'i 3323
کتاب #30: کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
53: بَابُ : رَضَاعِ الْكَبِيرِ
باب: بڑے کو دودھ پلانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْوَزِيرِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ يَحْيَى، وَرَبِيعَةُ , عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ أَنْ تُرْضِعَ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ حَتَّى تَذْهَبَ غَيْرَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ، فَأَرْضَعَتْهُ وَهُوَ رَجُلٌ، قَالَ رَبِيعَةُ: فَكَانَتْ رُخْصَةً لِسَالِمٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوحذیفہ کی بیوی کو حکم دیا کہ تم ابوحذیفہ کے غلام سالم کو دودھ پلا دو تاکہ ابوحذیفہ کی غیرت ( ناگواری ) ختم ہو جائے ۔ تو انہوں نے انہیں دودھ پلا دیا اور وہ ( بچے نہیں ) پورے مرد تھے ۔ ربیعہ ( اس حدیث کے راوی ) کہتے ہیں : یہ رخصت صرف سالم کے لیے تھی ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3323]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کسی دوسرے بڑے شخص کو دودھ پلانے سے حرمت ثابت نہیں ہو گی، جمہور کی رائے یہی ہے کہ یہ سالم کے ساتھ خاص تھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17452)، مسند احمد (6/249) (صحیح)