سنن النسائي حدیث نمبر: 1218
Sunan an-Nasa'i 1218
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
20: بَابُ : الْكَلاَمِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں بات کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ: أَحْفَظُهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمّ قَالَ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی مسجد میں داخل ہوا ، اور اس نے دو رکعت نماز پڑھی ، پھر اس نے ( نماز ہی میں ) کہا : «اللہم ارحمني ومحمدا ولا ترحم معنا أحدا» ” اے اللہ ! مجھ پر اور محمد پر رحم فرما ، اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما “ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کر دیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1218]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 138 (380)، سنن الترمذی/الطہارة 112 (147)، مسند احمد 2/239، (تحفة الأشراف: 13139) (صحیح)