سنن النسائي حدیث نمبر: 1221
Sunan an-Nasa'i 1221
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
20: بَابُ : الْكَلاَمِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں بات کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ وَاسْمُهُ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَالْقَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ كُلْثُومٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , وَهَذَا حَدِيثُ الْقَاسِمِ , قَالَ: كُنْتُ آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي , فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ فَيَرُدُّ عَلَيَّ , فَأَتَيْتُهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ , فَلَمَّا سَلَّمَ أَشَارَ إِلَى الْقَوْمِ , فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَعْنِي أَحْدَثَ فِي الصَّلَاةِ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا إِلَّا بِذِكْرِ اللَّهِ , وَمَا يَنْبَغِي لَكُمْ , وَأَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا تھا ، اور آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے تو میں آپ کو سلام کرتا ، تو آپ مجھے جواب دیتے ، ( ایک بار ) میں آپ کے پاس آیا ، اور میں نے آپ کو سلام کیا ، آپ نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا ، جب آپ نے سلام پھیرا ، تو لوگوں کی طرف اشارہ کیا ، اور فرمایا : ” اللہ نے نماز میں ایک نیا حکم دیا ہے کہ تم لوگ ( نماز میں ) سوائے ذکر الٰہی اور مناسب دعاؤں کے کوئی اور گفتگو نہ کرو ، اور اللہ کے لیے یکسو ہو کر کھڑے رہا کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1221]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري مدلس وعنعن. والحديث الآتي (1222) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 330
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9543) (صحیح)