سنن النسائي حدیث نمبر: 1219
Sunan an-Nasa'i 1219
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السَّلَمِيِّ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ فَجَاءَ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ , وَإِنَّ رِجَالًا مِنَّا يَتَطَيَّرُونَ , قَالَ: " ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ , فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ" , وَرِجَالٌ مِنَّا يَأْتُونَ الْكُهَّانَ , قَالَ: " فَلَا تَأْتُوهُمْ" , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَرِجَالٌ مِنَّا يَخُطُّونَ , قَالَ: " كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطُّهُ فَذَاكَ".
معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارا جاہلیت کا زمانہ ابھی ابھی گزرا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ اسلام کو لے آیا ، ہم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو برا شگون لیتے ہیں ! آپ نے فرمایا : ” یہ محض ایک خیال ہے جسے لوگ اپنے دلوں میں پاتے ہیں ، تو یہ ان کے آڑے نہ آئے “ ۱؎ معاویہ بن حکم نے کہا : اور ہم میں بعض لوگ ایسے ہیں جو کاہنوں کے پاس جاتے ہیں ! تو آپ نے فرمایا : ” تم لوگ ان کے پاس نہ جایا کرو “ ، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! اور ہم میں سے کچھ لوگ ( زمین پر یا کاغذ پر آئندہ کی بات بتانے کے لیے ) لکیریں کھینچتے ہیں ! آپ نے فرمایا : ” نبیوں میں سے ایک نبی بھی لکیریں کھینچتے تھے ، تو جس شخص کی لکیر ان کے موافق ہو تو وہ صحیح ہے “ ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ ہی رہا تھا کہ اسی دوران اچانک قوم میں سے ایک آدمی کو چھینک آ گئی ، تو میں نے ( زور سے ) «يرحمك اللہ» ” اللہ تجھ پر رحم کرے “ کہا ، تو لوگ مجھے گھور کر دیکھنے لگے ، میں نے کہا : «واثكل أمياه» ” میری ماں مجھ پر روئے “ ، تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ تم مجھے گھور رہے ہو ؟ لوگوں نے ( مجھے خاموش کرنے کے لیے ) اپنے ہاتھوں سے اپنی رانوں کو تھپتھپایا ، جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کر رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا ، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے مجھے بلایا ، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، نہ تو آپ نے مجھے مارا ، نہ ہی مجھے ڈانٹا ، اور نہ ہی برا بھلا کہا ، میں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد آپ سے اچھا اور بہتر معلم کسی کو نہیں دیکھا ، آپ نے فرمایا : ” ہماری اس نماز میں لوگوں کی گفتگو میں سے کوئی چیز درست نہیں ، نماز تو صرف تسبیح ، تکبیر اور قرأت قرآن کا نام ہے “ ، پھر میں اپنی بکریوں کی طرف آیا جنہیں میری باندی احد پہاڑ اور جوانیہ ۲؎ میں چرا رہی تھی ، میں ( وہاں ) آیا تو میں نے پایا کہ بھیڑیا ان میں سے ایک بکری اٹھا لے گیا ہے ، میں ( بھی ) بنو آدم ہی میں سے ایک فرد ہوں ، مجھے ( بھی ) غصہ آتا ہے جیسے انہیں آتا ہے ، چنانچہ میں نے اسے ایک چانٹا مارا ، پھر میں لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، میں نے آپ کو اس واقعہ کی خبر دی ، تو آپ نے مجھ پر اس کی سنگینی واضح کی ، تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میں اس کو آزاد نہ کر دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے بلاؤ “ ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : ” اللہ کہاں ہے ؟ “ اس نے جواب دیا : آسمان کے اوپر ، آپ نے پوچھا : ” میں کون ہوں ؟ “ اس نے کہا : آپ اللہ کے رسول ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ مومنہ ہے ، تو تم اسے آزاد کر دو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1219]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی یہ بدشگونی انہیں کسی کام سے جس کے کرنے کا انہوں نے ارادہ کیا ہو نہ روکے۔ ۲؎: احد پہاڑ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 7 (537)، سنن ابی داود/الصلاة 171 (930)، مسند احمد 5/447، (تحفة الأشراف: 11378)، وھو مختصراً والحدیث عند: صحیح مسلم/السلام 35 (537)، سنن ابی داود/الأیمان والنذور 19 (3282)، الطب 23 (3909)، موطا امام مالک/العتق 6 (8)، مسند احمد 5/448، 449، سنن الدارمی/الصلاة 177 (1543، 1544) (صحیح)