سنن النسائي حدیث نمبر: 1220
Sunan an-Nasa'i 1220
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
20: بَابُ : الْكَلاَمِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں بات کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: " كَانَ الرَّجُلُ يُكَلِّمُ صَاحِبَهُ فِي الصَّلَاةِ بِالْحَاجَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ سورة البقرة آية 238 , فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ.
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ( شروع میں ) آدمی نماز میں اپنے ساتھ والے سے ضرورت کی باتیں کر لیا کرتا تھا ، یہاں تک کہ آیت کریمہ : «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين» ” محافظت کرو نمازوں کی ، اور بیچ والی نماز کی ، اور اللہ کے لیے خاموش کھڑے رہو “ نازل ہوئی تو ( اس کے بعد سے ) ہمیں خاموش رہنے کا حکم دے دیا گیا ( البقرہ : ۲۳۸ ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1220]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العمل فی الصلاة 2 (1200)، تفسیر البقرة 42 (4534)، صحیح مسلم/المساجد 7 (539)، سنن ابی داود/الصلاة 178 (949)، سنن الترمذی/فیہ 181 (405)، تفسیر البقرة (2986)، (تحفة الأشراف: 3661)، مسند احمد 4/368 (صحیح)