📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل (كتاب السهو) 🏷️ باب: باب: نماز میں ابلیس پر لعنت کرنے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ چاہنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 1216 Sunan an-Nasa'i 1216
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
19: بَابُ : لَعْنِ إِبْلِيسَ وَالتَّعَوُّذِ بِاللَّهِ مِنْهُ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں ابلیس پر لعنت کرنے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ چاہنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَسَمِعْنَاهُ , يَقُولُ: " أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، ثُمَّ قَالَ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ ثَلَاثًا وَبَسَطَ يَدَهُ كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا" , فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ , قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَدْ سَمِعْنَاكَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْكَ تَقُولُهُ قَبْلَ ذَلِكَ , وَرَأَيْنَاكَ بَسَطْتَ يَدَكَ , قَالَ: " إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي , فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ آخُذَهُ , وَاللَّهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا بِهَا يَلْعَبُ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ".
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ کو کہتے سنا : «أعوذ باللہ منك» ” میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے “ پھر آپ نے فرمایا : «‏ألعنك بلعنة اللہ» ” میں تجھ پر اللہ کی لعنت کرتا ہوں “ تین بار آپ نے ایسا کہا ، اور اپنا ہاتھ پھیلایا گویا آپ کوئی چیز پکڑنی چاہ رہے ہیں ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم نے آپ کو نماز میں ایک ایسی بات کہتے ہوئے سنا جسے ہم نے اس سے پہلے آپ کو کبھی کہتے ہوئے نہیں سنا ، نیز ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنا ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا : ” اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تاکہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے ، تو میں نے تین بار کہا : میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے ، پھر میں نے تین بار کہا : میں تجھ پر اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں ، پھر بھی وہ پیچھے نہیں ہٹا ، تو میں نے ارادہ کیا کہ اس کو پکڑ لوں ، اللہ کی قسم ! اگر ہمارے بھائی سلیمان ( علیہ السلام ) کی دعا نہ ہوتی ، تو وہ صبح کو اس ( کھمبے ) سے بندھا ہوا ہوتا ، اور اس سے اہل مدینہ کے بچے کھیل کرتے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1216]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 8 (542)، (تحفة الأشراف: 10940) (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #1216
1214 1215 1216 1217 1218
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ