سنن النسائي حدیث نمبر: 1214
Sunan an-Nasa'i 1214
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
17: بَابُ : التَّنَحْنُحِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں کھکھارنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ يَعْنِي ابْنَ مُدْرِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُجَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ لِي عَلِيٌّ: " كَانَتْ لِي مَنْزِلَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ مِنَ الْخَلَائِقِ , فَكُنْتُ آتِيهِ كُلَّ سَحَرٍ , فَأَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ , فَإِنْ تَنَحْنَحَ انْصَرَفْتُ إِلَى أَهْلِي , وَإِلَّا دَخَلْتُ عَلَيْهِ".
نجی کہتے ہیں کہ مجھ سے علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں میرا ایسا مقام و مرتبہ تھا جو مخلوق میں سے کسی اور کو میسر نہیں تھا ، چنانچہ میں آپ کے پاس ہر صبح تڑکے آتا اور کہتا «السلام عليك يا نبي اللہ» ” اللہ کے نبی ! آپ پر سلامتی ہو “ اگر آپ کھنکھارتے تو میں اپنے گھر واپس لوٹ جاتا ، اور نہیں تو میں اندر داخل ہو جاتا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1214]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10292)، مسند احمد 1/85 (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ”نجی“ لین الحدیث ہیں)