سنن النسائي حدیث نمبر: 1212
Sunan an-Nasa'i 1212
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
17: بَابُ : التَّنَحْنُحِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں کھکھارنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْحَارِثِ الْعُكْلِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُجَيٍّ , عَنْ عَلِيٍّ , قَالَ: " كَانَ لِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةٌ آتِيهِ فِيهَا , فَإِذَا أَتَيْتُهُ اسْتَأْذَنْتُ إِنْ وَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَتَنَحْنَحَ دَخَلْتُ , وَإِنْ وَجَدْتُهُ فَارِغًا أَذِنَ لِي".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے میرے لیے ایک گھڑی ایسی مقرر تھی کہ میں اس میں آپ کے پاس آیا کرتا تھا ، جب میں آپ کے پاس آتا تو اجازت مانگتا ، اگر میں آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پاتا تو آپ کھنکھارتے ، تو میں اندر داخل ہو جاتا ، اگر میں آپ کو خالی پاتا تو آپ مجھے اجازت دیتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1212]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (3708) مسند احمد (1/ 80 ح 608) فى سماع عبد الله بن نجي من على رضي اللّٰه عنه نظر. والحديث الآتي (1214 وسنده حسن) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 330
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الأدب 17 (3708)، (تحفة الأشراف: 10202)، مسند احمد 1/77، 80، 107، 150 (ضعیف الإسناد) (عبداللہ بن نجی کا علی رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے، یعنی سند میں انقطاع ہے)