سنن النسائي حدیث نمبر: 1188
Sunan an-Nasa'i 1188
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
6: بَابُ : رَدِّ السَّلاَمِ بِالإِشَارَةِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں اشارے سے سلام کے جواب دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ ابْنِ أَسْلَمَ , قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ قُبَاءَ لِيُصَلِّيَ فِيهِ , فَدَخَلَ عَلَيْهِ رِجَالٌ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ , فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا وَكَانَ مَعَهُ: كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا سُلِّمَ عَلَيْهِ؟ قَالَ: " كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء میں نماز پڑھنے کے لیے داخل ہوئے ، تو لوگ ان کے پاس سلام کرنے کے لیے آئے ، میں نے صہیب صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ( وہ آپ کے ساتھ تھے ) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سلام کیا جاتا تھا تو آپ کیسے جواب دیتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : آپ اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1188]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الإقامة 59 (1017)، (تحفة الأشراف: 4967) (صحیح)