سنن النسائي حدیث نمبر: 1186
Sunan an-Nasa'i 1186
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
5: بَابُ : السَّلاَمِ بِالأَيْدِي فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں ہاتھ اٹھا کر سلام کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُسَلِّمُ بِأَيْدِينَا , فَقَالَ: " مَا بَالُ هَؤُلَاءِ يُسَلِّمُونَ بِأَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ؟ أَمَا يَكْفِي أَحَدُهُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ يَقُولَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمُ , السَّلَامُ عَلَيْكُمْ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے ، اور اپنے ہاتھ اٹھا کر سلام کرتے تھے ، اس پر آپ نے فرمایا : ” ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ اپنے ہاتھ اٹھا اٹھا کر سلام کرتے ہیں گویا کہ یہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں ، کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں کہ وہ اپنے ہاتھ اپنی ران پر رکھیں پھر «السلام عليكم ، السلام عليكم» کہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1186]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ صحیح مسلم/الصلاة 27 (431)، سنن ابی داود/الصلاة 189 (998، 999)، مسند احمد 5/86، 88، 102، 107، (تحفة الأشراف: 2207)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 1319، 1327 (صحیح)