سنن النسائي حدیث نمبر: 1187
Sunan an-Nasa'i 1187
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
6: بَابُ : رَدِّ السَّلاَمِ بِالإِشَارَةِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں اشارے سے سلام کے جواب دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ نَابِلٍ صَاحِبِ الْعَبَاءِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ صُهَيْبٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ , فَرَدَّ عَلَيَّ إِشَارَةً , وَلَا أَعْلَمُ , إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: بِإِصْبَعِهِ".
صحابی رسول صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا ، اور آپ نماز پڑھ رہے تھے تو میں نے آپ کو سلام کیا ، تو آپ نے مجھے اشارے سے جواب دیا ، ( ابن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں ) اور میں یہی جانتا ہوں کہ صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1187]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 170 (925)، سنن الترمذی/فیہ 155 (367)، (تحفة الأشراف: 4966)، مسند احمد 4/332، سنن الدارمی/الصلاة 94 (1401) (صحیح)