سنن النسائي حدیث نمبر: 1191
Sunan an-Nasa'i 1191
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
6: بَابُ : رَدِّ السَّلاَمِ بِالإِشَارَةِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں اشارے سے سلام کے جواب دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَعْلَبَكِّيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَسِيرُ مُشَرِّقًا أَوْ مُغَرِّبًا , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ بِيَدِهِ , ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ بِيَدِهِ , فَانْصَرَفْتُ فَنَادَانِي: يَا جَابِرُ , فَنَادَانِي النَّاسُ: يَا جَابِرُ , فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنِّي سَلَّمْتُ عَلَيْكَ فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيَّ , قَالَ: " إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کسی ضرورت سے ) بھیجا ، میں ( لوٹ کر ) آپ کے پاس آیا تو آپ ( سواری پر ) مشرق یا مغرب کی طرف جا رہے تھے ، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا ، میں واپس ہونے لگا تو آپ نے مجھے آواز دی : ” اے جابر ! “ ( تو میں نے نہیں سنا ) پھر لوگوں نے بھی مجھے جابر کہہ کر ( بلند آواز سے ) پکارا ، تو میں آپ کے پاس آیا ، اور آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے آپ کو سلام کیا مگر آپ نے مجھے جواب نہیں دیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نماز پڑھ رہا تھا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1191]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2898) (صحیح)