سنن النسائي حدیث نمبر: 1190
Sunan an-Nasa'i 1190
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
6: بَابُ : رَدِّ السَّلاَمِ بِالإِشَارَةِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں اشارے سے سلام کے جواب دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ ثُمَّ" أَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ إِلَيَّ , فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي , فَقَالَ: إِنَّكَ سَلَّمْتَ عَلَيَّ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي , وَإِنَّمَا هُوَ مُوَجَّهٌ يَوْمَئِذٍ إِلَى الْمَشْرِقِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت کے لیے بھیجا ، جب میں ( واپس آیا تو ) میں نے آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا ، تو میں نے ( اسی حالت میں ) آپ کو سلام کیا ، تو آپ نے مجھے اشارے سے جواب دیا ، جب آپ نماز پڑھ چکے تو مجھے بلایا ، اور فرمایا : ” تم نے ابھی مجھے سلام کیا تھا ، اور میں نماز پڑھ رہا تھا “ ، اور اس وقت آپ پورب کی طرف رخ کیے ہوئے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1190]
💡 وضاحت:
۱؎: مقصود یہ ہے کہ اس وقت آپ کا چہرہ قبلہ کی طرف نہیں تھا اس لیے مجھے یہ اندازہ نہیں ہو سکا کہ آپ نماز میں ہیں، اس لیے آپ نے بعد میں بلا کر وضاحت کی، اور پورب کی طرف رخ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ آپ اس وقت اپنی سواری پر تھے، اور سواری قبلہ سے پورب کی طرف متوجہ ہو گئی تھی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 7 (540)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 59 (1018)، مسند احمد 3/334، (تحفة الأشراف: 2913) (صحیح)