سنن أبي داود حدیث نمبر: 682
Sunan Abi Dawud 682
کتاب #-- : ابواب: صف بندی کے احکام ومسائل
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ وَابِصَةَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ"، قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ: الصَّلَاةَ.
وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو آپ نے اسے (نماز) لوٹانے کا حکم دیا۔ سلیمان بن حرب کی روایت میں ہے ”نماز کو“ لوٹانے کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 682]
💡 وضاحت:
۱؎: صف میں جگہ ہوتے ہوئے اس میں شریک نہ ہونا اور الگ سے نماز پڑھنا ناجائز ہے، اسے نماز دہرانی پڑے گی۔ عورت کی صف علیحدہ ہو گی، خواہ وہ اکیلی ہی کیوں نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (1105)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الصلاة 58 (230)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 54 (1004)، (تحفة الأشراف: 11738)، وقد أخرجہ: مسند احمد 4/227، 228، سنن الدارمی/الصلاة 61 (1323) (صحیح)