سنن أبي داود حدیث نمبر: 664
Sunan Abi Dawud 664
کتاب #--: ابواب: صف بندی کے احکام ومسائل
96: باب تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ
باب: صفوں کو درست اور برابر کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَأَبُو عَاصِمِ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ الْيَامِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُ الصَّفَّ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَى نَاحِيَةٍ يَمْسَحُ صُدُورَنَا وَمَنَاكِبَنَا، وَيَقُولُ: لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، وَكَانَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الْأُوَلِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کے اندر ایک طرف سے دوسری طرف جاتے اور ہمارے سینوں اور مونڈھوں پر ہاتھ پھیرتے تھے (یعنی ہمارے سینوں اور مونڈھوں کو برابر کرتے تھے)، اور فرماتے تھے: ”(صفوں سے) آگے پیچھے مت ہونا، ورنہ تمہارے دل مختلف ہو جائیں گے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اللہ تعالیٰ اگلی صفوں پر اپنی رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے ان کے دعائیں کرتے ہیں“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 664]
💡 وضاحت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عملاً صفوں کو برابر کرانا اس کے انتہائی تاکیدی عمل ہونے کی دلیل ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (1095)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الأذان 14 (647)، والإمامة 25 (812)، (تحفة الأشراف: 1776)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 51 (993)، مسند احمد (4/284، 285، 297، 298، 299، 304)، دی/الصلاة 49(1299) (صحیح)