سنن أبي داود حدیث نمبر: 662
Sunan Abi Dawud 662
کتاب #--: ابواب: صف بندی کے احکام ومسائل
96: باب تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ
باب: صفوں کو درست اور برابر کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ الْجُدَلِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِير، يَقُولُ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثَلَاثًا، وَاللَّهِ لَتُقِيمُنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ"، قَالَ: فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَلْزَقُ مَنْكِبَهُ بِمَنْكِبِ صَاحِبِهِ وَرُكْبَتَهُ بِرُكْبَةِ صَاحِبِهِ وَكَعْبَهُ بِكَعْبِهِ.
ابوالقاسم جدلی کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف اپنا رخ کیا اور فرمایا ”اپنی صفیں برابر کر لو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار فرمایا۔“ قسم اللہ کی! (ضرور ایسا ہو گا کہ) یا تو تم اپنی صفوں کو برابر رکھو گے یا اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں مخالفت پیدا کر دے گا۔“ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے دیکھا کہ ایک آدمی اپنے کندھے کو اپنے ساتھی کے کندھے کے ساتھ، اپنے گھٹنے کو اپنے ساتھی کے گھٹنے کے ساتھ اور اپنے ٹخنے کو اپنے ساتھی کے ٹخنے کے ساتھ ملا کر اور جوڑ کر کھڑا ہوتا تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 662]
💡 وضاحت:
اس حدیث میں صحابی رسول نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر تعمیل کی وضاحت کر دی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صفوں میں خوب جڑ کر کھڑے ہوتے تھے، حتی کہ کوئی خلا باقی رہتا نہ کوئی ٹیڑھ۔ شرعی تعلیمات سے اعراض کا نتیجہ آپس کی پھوٹ اور نفرت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ جیسے کہ ہم مشاہدہ کر رہے ہیں «اعاذنا اللہ منہ» ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ دل کا معاملہ ظاہری اعضاء و اعمال کے ساتھ بھی ہے۔ اگر ظاہری اعمال صحیح ہوں تو دل بھی صحیح رہتا ہے اور اس کے برعکس بھی آیا ہے کہ اگر دل صحیح ہو تو باقی جسم صحیح رہتا ہے۔ امام کو چاہیے کہ اس سنت کو زندہ کرتے ہوئے نمازیوں کو تکبیر تحریمہ سے پہلے تاکید کرے کہ آپس میں مل کر کھڑے ہوں۔ بلکہ عملاً صفیں سیدھی کرائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح ق بجملة الأمر بتسوية الصفوف وجملة المنكب بالمنكب عقله خ عن أنس
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ زكريا بن أبي زائدة صرح بالسماع عند ابن خزيمة (160) والدارقطني (1/283) وغيرھما
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11616) (صحیح)