سنن أبي داود حدیث نمبر: 663
Sunan Abi Dawud 663
کتاب #--: ابواب: صف بندی کے احکام ومسائل
96: باب تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ
باب: صفوں کو درست اور برابر کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّينَا فِي الصُّفُوفِ كَمَا يُقَوَّمُ الْقِدْحُ، حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنْ قَدْ أَخَذْنَا ذَلِكَ عَنْهُ وَفَقِهْنَا أَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ بِوَجْهِهِ إِذَا رَجُلٌ مُنْتَبِذٌ بِصَدْرِهِ، فَقَالَ: " لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفیں درست کیا کرتے تھے، جیسے تیر درست کیے جاتے ہیں (اور یہ سلسلہ برابر جاری رہا) یہاں تک کہ آپ کو یقین ہو گیا کہ ہم نے اسے آپ سے خوب اچھی طرح سیکھ اور سمجھ لیا ہے، تو ایک روز آپ متوجہ ہوئے، اتنے میں دیکھا کہ ایک شخص اپنا سینہ صف سے آگے نکالے ہوئے ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنی صفیں برابر رکھو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان اختلاف پیدا کر دے گا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 663]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (436)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصلاة 28 (436)، سنن الترمذی/الصلاة 55 (227)، سنن النسائی/الإمامة 25 (811)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 50 (992)، (تحفة الأشراف: 11620)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/270، 271، 272، 276، 277) (صحیح)