سنن أبي داود حدیث نمبر: 683
Sunan Abi Dawud 683
کتاب #--: ابواب: صف بندی کے احکام ومسائل
103: باب الرَّجُلِ يَرْكَعُ دُونَ الصَّفِّ
باب: آدمی صف میں ملنے سے پہلے ہی رکوع کر لے تو اس کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ حَدَّثَ أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ، قَالَ: فَرَكَعْتُ دُونَ الصَّفِّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ مسجد میں آئے اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں تھے، وہ کہتے ہیں: تو میں نے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) فرمایا: ”اللہ تمہارے شوق کو بڑھائے، آئندہ ایسا نہ کرنا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 683]
💡 وضاحت:
”آیندہ ایسے نہ کرنا“ کا مطلب ہے کہ یہ دیکھ کر کہ جماعت ہو رہی ہے اور امام رکوع میں چلا گیا ہے، تو تم تیزی سے دوڑتے ہوئے آؤ، اور پھر دروازے ہی سے رکوع کر لو اور حالت رکوع میں چلتے ہوئے صف میں شامل ہو۔ آیندہ اس طرح نہ کرنا، بلکہ اطمینان اور وقار سے آ کر صف میں شامل ہو۔ معلوم ہوا کہ نیکی کرنے میں اگر کسی سے کوئی خطا ہو جائے تو پہلے اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے پھر صحیح طریقہ بتانا یا سکھانا چاہیے۔ نمازی کو پہلے اطمینان سے صف میں پہنچنا چاہیے۔ اس کے بعد سکون سے تکبیر کہہ کر نماز میں شامل ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (783)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 114 (783)، سنن النسائی/الإمامة 63 (872)، (تحفة الأشراف: 11659)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/39، 42، 45، 46، 50) (صحیح)