سنن أبي داود حدیث نمبر: 3507
Sunan Abi Dawud 3507
کتاب #24: کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
36: باب فِي عُهْدَةِ الرَّقِيقِ
باب: غلام اور لونڈی کی خریداری میں خریدار کے اختیار کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، زَادَ إِنْ وَجَدَ دَاءً فِي الثَّلَاثِ لَيَالِي رُدَّ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ وَإِنْ وَجَدَ دَاءً بَعْدَ الثَّلَاثِ كُلِّفَ الْبَيِّنَةَ، أَنَّهُ اشْتَرَاهُ وَبِهِ هَذَا الدَّاءُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا التَّفْسِيرُ مِنْ كَلَامِ قَتَادَةَ.
اس سند سے بھی قتادہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ اگر تین دن کے اندر ہی اس میں کوئی عیب پائے تو وہ اسے بغیر کسی گواہ کے لوٹا دے گا، اور اگر تین دن بعد اس میں کوئی عیب نکلے تو اس سے اس بات پر بینہ (گواہ) طلب کیا جائے گا، کہ جب اس نے اسے خریدا تھا تو اس میں یہ بیماری اور یہ عیب موجود تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ تفسیر قتادہ کے کلام کا ایک حصہ ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3507]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف وسنده إلى قتادة صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ انظر الحديث السابق (3506) و إن كان ھذا من قول قتادة فسنده صحيح ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 124
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9917) (ضعیف) وسندہ إلی قتادة صحیح (حسن بصری کا سماع عقبہ رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے)