سنن أبي داود حدیث نمبر: 3509
Sunan Abi Dawud 3509
کتاب #24: کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
37: باب فِيمَنِ اشْتَرَى عَبْدًا فَاسْتَعْمَلَهُ ثُمَّ وَجَدَ بِهِ عَيْبًا
باب: ایک شخص نے غلام خریدا اور اسے کام پر لگایا پھر اس میں عیب کا پتہ چلا تو اس کی اجرت خریدار کے ذمہ ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ الْغِفَارِيِّ، قَال: " كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ أُنَاسٍ شَرِكَةٌ فِي عَبْدٍ فَاقْتَوَيْتُهُ، وَبَعْضُنَا غَائِبٌ فَأَغَلَّ عَلَيَّ غَلَّةً فَخَاصَمَنِي فِي نَصِيبِهِ إِلَى بَعْضِ الْقُضَاةِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَرُدَّ الْغَلَّةَ، فَأَتَيْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ فَحَدَّثْتُهُ، فَأَتَاهُ عُرْوَةُ فَحَدَّثَهُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ".
(مخلد بن خفاف) غفاری کہتے ہیں میرے اور چند لوگوں کے درمیان ایک غلام مشترک تھا، میں نے اس غلام سے کچھ کام لینا شروع کیا اور ہمارا ایک حصہ دار موجود نہیں تھا اس غلام نے کچھ غلہ کما کر ہمیں دیا تو میرا شریک جو غائب تھا اس نے مجھ سے جھگڑا کیا اور معاملہ ایک قاضی کے پاس لے گیا، اس قاضی نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کے حصہ کا غلہ اسے دے دوں، پھر میں عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اسے بیان کیا، تو عروہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور ان سے وہ حدیث بیان کی جو انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی تھی آپ نے فرمایا: ”منافع اس کا ہو گا جو ضامن ہو گا ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3509]
💡 وضاحت:
۱؎: عروہ نے اس حصہ دار سے یہ حدیث اس لئے بیان کی تاکہ وہ مخلد سے غلہ نہ لے کیونکہ غلام اس وقت مخلد کے ضمان میں تھا اس لئے اس کی کمائی کے مستحق بھی تنہا وہی ہوئے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ انظر الحديث السابق (3509)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 16755) (حسن)