سنن أبي داود حدیث نمبر: 3508
Sunan Abi Dawud 3508
کتاب #24: کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
37: باب فِيمَنِ اشْتَرَى عَبْدًا فَاسْتَعْمَلَهُ ثُمَّ وَجَدَ بِهِ عَيْبًا
باب: ایک شخص نے غلام خریدا اور اسے کام پر لگایا پھر اس میں عیب کا پتہ چلا تو اس کی اجرت خریدار کے ذمہ ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خراج ضمان سے جڑا ہوا ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3508]
💡 وضاحت:
۱؎: مثلاً خریدار نے ایک غلام خریدا اسی دوران غلام نے کچھ کمائی کی تو اس کا حق دار مشتری ہو گا بائع نہیں کیونکہ غلام کے کھو جانے یا بھاگ جانے کی صورت میں مشتری ہی اس کا ضامن ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (2879) ¤ أخرجه الترمذي (1285 وسنده حسن) والنسائي (4495 وسنده حسن) وابن ماجه (2242 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/البیوع 53 (1285)، سنن النسائی/ البیوع 13 (4495)، سنن ابن ماجہ/التجارات 43 (2242، 2243)، (تحفة الأشراف: 16755)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/49، 208، 237) (حسن)