سنن أبي داود حدیث نمبر: 3505
Sunan Abi Dawud 3505
کتاب #24: کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
35: باب فِي شَرْطٍ فِي بَيْعٍ
باب: بیع میں شرط کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: بِعْتُهُ يَعْنِي بَعِيرَهُ، مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَرَطْتُ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي، قَالَ فِي آخِرِهِ: " تُرَانِي إِنَّمَا مَاكَسْتُكَ لِأَذْهَبَ بِجَمَلِكَ خُذْ جَمَلَكَ وَثَمَنَهُ فَهُمَا لَكَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اسے (یعنی اپنا) اونٹ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیچا اور اپنے سامان سمیت سوار ہو کر اپنے اہل تک پہنچنے کی شرط لگا لی، اور اخیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم سمجھتے ہو کہ میں قیمت کم کرا رہا ہوں تاکہ کم ہی پیسے میں تمہارے اونٹ ہڑپ کر لے جاؤں، جاؤ تم اپنا اونٹ بھی لے جاؤ اور اونٹ کی قیمت بھی، یہ دونوں چیزیں تمہاری ہیں“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3505]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (2718) صحيح مسلم (715 بعد ح1599)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 34 (2097)، الاستقراض 1 (2385)، 18 (2406)، المظالم 26 (2470)، الشروط 4 (2718)، الجھاد 49 (2861)، 113 (2967)، صحیح مسلم/البیوع 42 (715)، الرضاع 16 (715)، سنن الترمذی/البیوع 30 (1253)، سنن النسائی/البیوع 75 (4641)، سنن ابن ماجہ/التجارات 29 (2205)، (تحفة الأشراف: 2341)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/299، 392) (صحیح)