كتاب الكهانة والتطير
کتاب: کہانت اور بدفالی سے متعلق احکام و مسائل
|
21: باب فِي الْكَاهِنِ
باب: غیب کی باتیں بتانے والے (کاہن) کے پاس جانا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حَكِيمٍ الأَثْرَمِ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَتَى كَاهِنًا"، قَالَ مُوسَى فِي حَدِيثِهِ: فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ ثُمَّ اتَّفَقَا أَوْ أَتَى امْرَأَةً، قَالَ مُسَدَّدٌ: امْرَأَتَهُ حَائِضًا أَوْ أَتَى امْرَأَةً، قَالَ مُسَدَّدٌ: امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی کاہن کے پاس آئے پھر جو وہ کہے اس کی تصدیق کرے، یا حائضہ عورت کے پاس آئے یا اپنی عورت کے پاس اس کی پچھلی شرمگاہ میں آئے تو وہ ان چیزوں سے بری ہو گیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئیں ہیں“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3904]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ مشكوة المصابيح (4599) ¤ أخرجه الترمذي (135 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (639 وسنده حسن) حكيم الأثرم حسن الحديث، وللحديث شاھد عند مسلم (2230)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الطھارة 102 (135)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 122 (639)، (تحفة الأشراف: 13536)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/86، 2/408، 476، 6/305)، سنن الدارمی/الطھارة 113 (259) (صحیح)
|
|
|
22: باب فِي النُّجُومِ
باب: علم نجوم کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُسَدَّدٌ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ، اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ زَادَ مَا زَادَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے علم نجوم کا کوئی حصہ اخذ کیا تو اس نے اتنا ہی جادو اخذ کیا، وہ جتنا اضافہ کرے گا اتنا ہی اضافہ ہو گا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3905]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4598) ¤ أخرجه ابن ماجه (3726 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الأدب 28 (3726)، (تحفة الأشراف: 6559)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/227، 311) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: " صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: " هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ، فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ".
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں ہمیں نماز فجر بارش کے بعد پڑھائی جو رات میں ہوئی تھی تو جب آپ فارغ ہو گئے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے تو فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا کہا؟“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے کہا: میرے بندوں میں سے کچھ نے آج مومن ہو کر صبح کی، اور کچھ نے کافر ہو کر، جس نے یہ کہا کہ بارش اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہوئی وہ میرے اوپر ایمان رکھنے والا ہوا اور ستاروں کا منکر ہوا، اور جس نے کہا کہ ہم فلاں اور فلاں نچھتر کے سبب برسائے گئے تو وہ میرا منکر ہوا اور ستاروں پر یقین کرنے والا ہوا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3906]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (846) صحيح مسلم (71)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 156 (846)، الاستسقاء 28 (1038)، المغازي 35 (4147)، التوحید 35 (7503)، صحیح مسلم/الإیمان 32 (125)، سنن النسائی/الاستسقاء 16 (1526)، عمل الیوم واللیلة 267 (924)، (تحفة الأشراف: 3757)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستسقاء 3 (4)، مسند احمد (4/115، 116، 117) (صحیح)
|
|
|
23: باب فِي الْخَطِّ وَزَجْرِ الطَّيْرِ
باب: رمل اور پرندہ اڑا نے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَوُفٌ، حَدَّثَنَا حَيَّانُ، قَالَ غَيْر مُسَدَّدٍ، حَيَانُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ قَبِيصَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْعِيَافَةُ وَالطِّيَرَةُ وَالطَّرْقُ مِنَ الْجِبْتِ"، الطَّرْقُ: الزَّجْرُ، وَالْعِيَافَةُ: الْخَطُّ.
قبیصہ بن وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”رمل، بدشگونی اور پرند اڑانا کفر کی رسموں میں سے ہے“ پرندوں کو ڈانٹ کر اڑانا طرق ہے، اور «عيافة» وہ لکیریں ہیں جو زمین پر کھینچی جاتی ہیں جسے رمل کہتے ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3907]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ حيان بن العلاء: مجهول (التحرير: 1598) وثقه ابن حبان وحده ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 139
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11067)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/477، 5/60) (ضعیف) (اس کے راوی حیان لین الحدیث ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ عَوْفٌ: " الْعِيَافَةُ زَجْرُ الطَّيْرِ وَالطَّرْقُ الْخَطُّ يُخَطُّ فِي الْأَرْضِ".
عوف کہتے ہیں «عيافة» سے مراد پرندہ اڑانا ہے اور «طرق» سے مراد وہ لکیریں ہیں جو زمین پر کھینچی جاتی ہیں (اور جسے رمل کہتے ہیں)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3908]
قال الشيخ الألباني:
صحيح مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ؟، قَالَ: كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ".
معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو خط کھینچتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”انبیاء میں ایک نبی تھے جو خط کھینچتے تھے تو جس کا خط ان کے خط کے موافق ہوا تو وہ ٹھیک ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3909]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (537)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: (930)، (تحفة الأشراف: 11378) (صحیح)
|
|
|
24: باب فِي الطِّيَرَةِ
باب: بدشگونی اور فال بد لینے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَيْسَى بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الطِّيَرَةُ شِرْكٌ الطِّيَرَةُ شِرْكٌ ثَلَاثًا، وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ”بدشگونی شرک ہے اور ہم میں سے ہر ایک کو وہم ہو ہی جاتا ہے لیکن اللہ اس کو توکل سے دور فرما دیتا ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3910]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4584) ¤ أخرجه الترمذي (1614 وسنده صحيح) سفيان تابعه شعبة عند أبي داود الطيالسي (356)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/السیر 47 (1614)، سنن ابن ماجہ/الطب 43 (3538)، (تحفة الأشراف: 9207)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/389، 438، 440) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلانِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَّةَ". فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ، فَيُخَالِطُهَا الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ، فَيُجْرِبُهَا، قَالَ: فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ، قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَحَدَّثَنِي رَجُلٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يُورِدَنَّ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ، قَالَ: فَرَاجَعَهُ الرَّجُلُ، فَقَالَ: أَلَيْسَ قَدْ حَدَّثَنَا عَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ؟" قَالَ: لَمْ أُحَدِّثْكُمُوهُ؟ قَالَ الزُّهْرِيُّ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: قَدْ حَدَّثَ بِهِ وَمَا سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ نَسِيَ حَدِيثًا قَطُّ غَيْرَهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ کسی چیز میں نحوست ہے، نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے اور نہ کسی مردے کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے“ تو ایک بدوی نے عرض کیا: پھر ریگستان کے اونٹوں کا کیا معاملہ ہے؟ وہ ہرن کے مانند (بہت ہی تندرست) ہوتے ہیں پھر ان میں کوئی خارشتی اونٹ جا ملتا ہے تو انہیں بھی کیا خارشتی کر دیتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا پہلے اونٹ کو کس نے خارشتی کیا؟“۔ معمر کہتے ہیں: زہری نے کہا: مجھ سے ایک شخص نے ابوہریرہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی بیمار اونٹ تندرست اونٹ کے ساتھ پانی پلانے کے لیے نہ لایا جائے“ پھر وہ شخص ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اور ان سے کہا: کیا آپ نے مجھ سے یہ حدیث بیان نہیں کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے، اور نہ کسی کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے“ تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کیا، اور کہا: میں نے اسے آپ لوگوں سے نہیں بیان کیا ہے۔ زہری کا بیان ہے: ابوسلمہ کہتے ہیں: حالانکہ انہوں نے اسے بیان کیا تھا، اور میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کبھی کوئی حدیث بھولتے نہیں سنا سوائے اس حدیث کے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3911]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (5770) صحيح مسلم (2220)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الطب 25 (5717)، 45 (5757)، 53 (5770)، 54 (5772)، (تحفة الأشراف: 15273، 15502)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/السلام 33 (2223)، مسند احمد (2/267، 327، 397) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَلَا نَوْءَ وَلَا صَفَرَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ کسی کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے، نہ نچھتر کوئی چیز ہے، اور نہ صفر کے مہینہ میں نحوست ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3912]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2220 بعد ح 2221)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14068)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الطب 33 (2220)، مسند احمد (2/397) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ الْبَرْقِيِّ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْحَكَمِ، حَدَّثَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلَانَ، حَدَّثَنِي الْقَعْقَاعُ بْنُ حَكِيمٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ، وَزَيدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا غُولَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھوت پریت کو کسی کو نقصان پہنچانے کا کوئی اختیار نہیں“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3913]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12322، 12829، 12868) (حسن صحیح)
|
|
|
قَالَ أَبُو دَاوُد: قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا شَاهِدٌ، أَخْبَرَكُمْ أَشْهَبُ، قَالَ: سُئِلَ مَالِكٌ: عَنْ قَوْلِهِ: لَا صَفَرَ، قَالَ: إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يُحِلُّونَ صَفَرَ يُحِلُّونَهُ عَامًا، وَيُحَرِّمُونَهُ عَامًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَفَرَ،
ابوداؤد کہتے ہیں حارث بن مسکین پر پڑھا گیا، اور میں موجود تھا کہ اشہب نے آپ کو خبر دی ہے کہ امام مالک سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: «لا صفر» کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: جاہلیت میں لوگ «صفر» کو کسی سال حلال قرار دے لیتے تھے اور کسی سال اسے (محرم کا مہینہ قرار دے کر) حرام رکھتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صفر» (اب ایسا) نہیں ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3914]
قال الشيخ الألباني:
صحيح مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ الصَّالِحُ وَالْفَأْلُ الصَّالِحُ الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، اور نہ بد شگونی کوئی چیز ہے، اور فال نیک سے مجھے خوشی ہوتی ہے اور فال نیک بھلی بات ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3915]
قال الشيخ الألباني:
صحيح مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الطب 44 (5756)، 54 (5776)، سنن الترمذی/السیر 47 (1615)، (تحفة الأشراف: 1358)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/السلام 34 (2224)، مسند احمد (3/118، 154، 178) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ قال: قُلْتُ لِمُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ، قَوْلُهُ هَامَ، قَالَ: كَانَت الْجَاهِلِيَّةُ تَقُولُ: لَيْسَ أَحَدٌ يَمُوتُ، فَيُدْفَنُ، إِلَّا خَرَجَ مِنْ قَبْرِهِ هَامَةٌ، قُلْتُ: فَقَوْلُهُ" صَفَرَ" قَالَ: سَمِعْتُ أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ يَسْتَشْئِمُونَ بِصَفَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَفَرَ"، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَقَدْ سَمِعْنَا مَنْ يَقُولُ هُوَ وَجَعٌ يَأْخُذُ فِي الْبَطْنِ، فَكَانُوا يَقُولُونَ هُوَ يُعْدِي، فَقَالَ: " لَا صَفَرَ".
بقیہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن راشد سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «هام» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے: جو آدمی مرتا ہے اور دفن کر دیا جاتا ہے تو اس کی روح قبر سے ایک جانور کی شکل میں نکلتی ہے، پھر میں نے پوچھا آپ کے قول «لا صفر» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے سنا ہے کہ جاہلیت کے لوگ «صفر» کو منحوس جانتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صفر» میں نحوست نہیں ہے۔ محمد بن راشد کہتے ہیں: میں نے کچھ لوگوں کو کہتے سنا ہے: «صفر» پیٹ میں ایک قسم کا درد ہے، لوگ کہتے تھے: وہ متعدی ہوتا ہے (یعنی ایک کو دوسرے سے لگ جاتا ہے) تو آپ نے فرمایا: ” «صفر» کوئی چیز نہیں ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3916]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (5756) صحيح مسلم (2224)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ سُهَيلٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ كَلِمَةً فَأَعْجَبَتْهُ، فَقَالَ: أَخَذْنَا فَأْلَكَ مِنْ فِيكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات سنی جو آپ کو بھلی لگی تو آپ نے فرمایا: ”ہم نے تیری فال تیرے منہ سے سن لی (یعنی انجام بخیر ہے ان شاء اللہ)“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3917]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ وله شاھد حسن عند أبي شيخ الأصبھاني في أخلاق النبي ﷺ (ص251)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15501)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/388) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: يَقُولُ: " وَجَعٌ يَأْخُذُ فِي الْبَطْنِ، النَّاسُ الصَّفَرُ، قُلْتُ: فَمَا الْهَامَةُ؟، قَالَ: يَقُولُ النَّاسُ: الْهَامَةُ الَّتِي تَصْرُخُ هَامَةُ النَّاسِ وَلَيْسَتْ بِهَامَةِ الْإِنْسَانِ إِنَّمَا هِيَ دَابَّةٌ".
عطاء سے روایت ہے کہ لوگ کہتے تھے کہ صفر ایک قسم کا درد ہے جو پیٹ میں ہوتا ہے تو میں نے پوچھا: ہامہ کیا ہے؟ کہا: لوگ کہتے تھے: الو جو بولتا ہے وہ لوگوں کی روح ہے، حالانکہ وہ انسان کی روح نہیں بلکہ وہ ایک جانور ہے (اگلے لوگ جہالت سے اسے انسان کی روح سمجھتے تھے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3918]
قال الشيخ الألباني:
صحيح مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَأبُو بَكْرِ بْنُ شَيْبَةَ الْمَعْنَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ أَحْمَدُ، الْقُرَشِيُّ قَالَ: " ذُكِرَتِ الطِّيَرَةُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَحْسَنُهَا الْفَأْلُ وَلَا تَرُدُّ مُسْلِمًا فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ، فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ لَا يَأْتِي بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ".
عروہ بن عامر قرشی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس طیرہ (بدشگونی) کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اس کی سب سے اچھی قسم نیک فال، اور اچھا (شگون) ہے، اور فال (شگون) کسی مسلمان کو اس کے ارادہ سے باز نہ رکھے پھر جب تم میں سے کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے ناگوار ہو تو وہ یہ دعا پڑھے: «اللهم لا يأتي بالحسنات إلا أنت ولا يدفع السيئات إلا أنت ولا حول ولا قوة إلا بك» ”اے اللہ! تیرے سوا کوئی بھلائی نہیں پہنچا سکتا اور سوائے تیرے کوئی برائیوں کو روک بھی نہیں سکتا اور برائی سے باز رہنے اور نیکی کے کام کرنے کی طاقت و قوت صرف تیری توفیق ہی سے ملتی ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3919]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سفيان الثوري وحبيب عنعنا ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9899) (ضعیف) (اس کے راوی عروہ قرشی تابعی ہیں اس لئے یہ روایت مرسل ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ لَا يَتَطَيَّرُ مِنْ شَيْءٍ، وَكَانَ إِذَا بَعَثَ عَامِلًا سَأَلَ عَنِ اسْمِهِ، فَإِذَا أَعْجَبَهُ اسْمُهُ فَرِحَ بِهِ وَرُئِيَ بِشْرُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهُ رُئِيَ كَرَاهِيَةُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَإِذَا دَخَلَ قَرْيَةً سَأَلَ عَنِ اسْمِهَا، فَإِنْ أَعْجَبَهُ اسْمُهَا فَرِحَ وَرُئِيَ بِشْرُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهَا رُئِيَ كَرَاهِيَةُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے فال بد (بدشگونی) نہیں لیتے تھے اور جب آپ کسی عامل کو بھیجتے تو اس کا نام پوچھتے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا نام پسند آتا تو اس سے خوش ہوتے اور خوشی آپ کے چہرے پر نظر آتی اور اگر وہ پسند نہ آتا تو یہ ناپسندیدگی آپ کے چہرے پر دکھائی پڑتی، اور جب کسی بستی میں داخل ہوتے تو اس کا نام پوچھتے اگر وہ نام اچھا لگتا تو اس سے خوش ہوتے اور یہ خوشی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر دکھائی پڑتی اور اگر وہ ناپسند ہوتا تو یہ ناپسندیدگی آپ کے چہرے پر دکھائی پڑتی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3920]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قتادة عنعن ¤ ولبعض الحديث شاهد عند الضياء في المختارة بلفظ ”كان يتفأل ولا يتطير ويعجبه الإسم الحسن“ (144/12 ح169) وھو حسن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 1993)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/347) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، أَنَّ الْحَضْرَمِيَّ بْنَ لَاحِقٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " لَا هَامَةَ وَلَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، وَإِنْ تَكُنْ الطِّيَرَةُ فِي شَيْءٍ، فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ".
سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”مردے کی روح جانور کی شکل میں نہیں نکلتی، اور نہ کسی کی بیماری کسی کو لگتی ہے، اور نہ کسی چیز میں نحوست ہے، اور اگر کسی چیز میں نحوست ہوتی تو گھوڑے، عورت اور گھر میں ہوتی“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3921]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4586)
تخریج دارالدعوہ:
تفردبہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3861)، وقد أخرجہ: حم (1/180، 186) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ، وَسَالِمٍ ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا شَاهِدٌ، أَخْبَرَكَ ابْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: سُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الشُّؤْمِ فِي الْفَرَسِ وَالدَّارِ، قَالَ: كَمْ مِنْ دَارٍ سَكَنَهَا نَاسٌ، فَهَلَكُوا ثُمَّ سَكَنَهَا آخَرُونَ، فَهَلَكُوا؟ فَهَذَا تَفْسِيرُهُ فِيمَا نَرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: حَصِيرٌ فِي الْبَيْتِ خَيْرٌ مِنَ امْرَأَةٍ لَا تَلِدُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نحوست گھر، عورت اور گھوڑے میں ہے ۱؎“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن مسکین پر پڑھا گیا اور میں موجود تھا کہ ابن قاسم نے آپ کو خبر دی ہے کہ امام مالک سے گھوڑے اور گھر کی نحوست کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: بہت سے گھر ایسے ہیں جس میں لوگ رہے تو وہ مر گئے پھر دوسرے لوگ رہنے لگے تو وہ بھی مر گئے، جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہی اس کی تفسیر ہے، واللہ اعلم۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ گھر کی ایک چٹائی بانجھ عورت سے اچھی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3922]
💡 وضاحت:
۱؎: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی یہی روایت صحیح مسلم میں کئی سندوں سے اس طرح ہے: ”اگر نحوست کسی چیز میں ہوتی تو ان تین چیزوں میں ہوتی“ اور یہی مطلب اس عام روایت کا بھی ہے، اس کی وضاحت سعد بن مالک کی پچھلی روایت سے بھی ہو رہی ہے، اور وہ جو دیگر روایات میں ہے، جیسے حدیث نمبر (۳۹۲۴) تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ ظاہر کو حقیقت سمجھ بیٹھیں اور ان کا عقیدہ خراب ہو جائے اسی لئے اس گھر کو چھوڑ دینے کا حکم دیا جیسے کوڑھی سے بھاگنے کا حکم دیا، حالانکہ آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم خود فرمایا ہے کہ: ”چھوت کی کوئی حقیقت نہیں“۔
قال الشيخ الألباني:
شاذ والمحفوظ إن كان الشؤم
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (5093) صحيح مسلم (2225)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجھاد 47 (2858)، النکاح 17 (5093)، الطب 43 (5753)، 54 (5772)، صحیح مسلم/السلام 34 (2225)، سنن الترمذی/الأدب 58 (2824)، سنن النسائی/الخیل 4 (3599)، سنن ابن ماجہ/النکاح 55 (1995)، (تحفة الأشراف: 6864، 18276، 6699)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان 8 (22)، مسند احمد (2/8، 36، 115، 126) (صحیح) (اس حدیث میں الشؤم کا لفظ آیا ہے، اور بعض روایتوں میں إنما الشؤم ہے جبکہ صحیحین وغیرہ میں ابن عمر سے إن کان الشؤم ثابت ہے، جس کے شواہد سعد بن أبی وقاص (کما تقدم: 3921)، سہل بن سعد (صحیح البخاری/5095)، وجابر (صحیح مسلم/2227) کی احادیث میں ہیں، اس لئے بعض اہل علم نے پہلے لفظ کو شاذ قرار دیا ہے، (ملاحظہ ہو: الصحیحة: 799، 789، 1857)۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَحِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ فَرْوَةَ بْنَ مُسَيْكٍ، قَالَ: قُلْتُ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْضٌ عِنْدَنَا يُقَالُ لَهَا أَرْضُ أَبْيَنَ هِيَ أَرْضُ رِيفِنَا وَمِيرَتِنَا وَإِنَّهَا وَبِئَةٌ، أَوْ قَالَ: وَبَاؤُهَا شَدِيدٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهَا عَنْكَ فَإِنَّ مِنَ الْقَرَفِ التَّلَفَ".
فروہ بن مسیک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ایک زمین ہے جسے ابین کہا جاتا ہے یہی ہمارا کھیت ہے جہاں سے ہمیں غلہ ملتا ہے لیکن یہ وبا والی زمین ہے یا کہا کہ اس کی وبا سخت ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس زمین کو اپنے سے علیحدہ کر دے کیونکہ اس کے ساتھ وبا لگی رہنے سے ہلاکت ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3923]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ يحيي بن عبد اللّٰه بن بحير: مستور (تق: 7579) وشيخه مجهول لم يسم ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11024)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/451) (ضعیف الإسناد) (فروة کے شاگرد مبہم ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا فِي دَارٍ كَثِيرٌ فِيهَا عَدَدُنَا، وَكَثِيرٌ فِيهَا أَمْوَالُنَا، فَتَحَوَّلْنَا إِلَى دَارٍ أُخْرَى فَقَلَّ فِيهَا عَدَدُنَا وَقَلَّتْ فِيهَا أَمْوَالُنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَرُوهَا ذَمِيمَةً".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم ایک گھر میں تھے تو اس میں ہمارے لوگوں کی تعداد بھی زیادہ تھی اور ہمارے پاس مال بھی زیادہ رہتا تھا پھر ہم ایک دوسرے گھر میں آ گئے تو اس میں ہماری تعداد بھی کم ہو گئی اور ہمارا مال بھی گھٹ گیا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، مذموم حالت میں ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3924]
💡 وضاحت:
۱؎: اس گھر کو چھوڑ دینے کا حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے دیا کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ وہ گھر ہی کو مؤثر سمجھنے لگ جائیں اور شرک میں پڑ جائیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عكرمة بن عمار مدلس وعنعن ¤ بل صرح بالسماع عند البزار (البحر الزخار 79/13 ح6427) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 193) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَخَذَ بِيَدِ مَجْذُومٍ فَوَضَعَهَا مَعَهُ فِي الْقَصْعَةِ، وَقَالَ: كُلْ ثِقَةً بِاللَّهِ وَتَوَكُّلًا عَلَيْهِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ پیالہ میں رکھ لیا اور فرمایا: ”اللہ پر بھروسہ اور اعتماد کر کے کھاؤ“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3925]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1817) ابن ماجه (3542) ¤ مفضل بن فضالة: ضعيف (تق: 6857) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الأطعمة 19 (1817)، سنن ابن ماجہ/ الطب 44 (3542)، (تحفة الأشراف: 3010) (ضعیف) (اس کے راوی مفضّل بن فضالة بصری ضعیف ہیں)
|
|