سنن أبي داود حدیث نمبر: 3920
Sunan Abi Dawud 3920
کتاب #30: کتاب: کہانت اور بدفالی سے متعلق احکام و مسائل
24: باب فِي الطِّيَرَةِ
باب: بدشگونی اور فال بد لینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ لَا يَتَطَيَّرُ مِنْ شَيْءٍ، وَكَانَ إِذَا بَعَثَ عَامِلًا سَأَلَ عَنِ اسْمِهِ، فَإِذَا أَعْجَبَهُ اسْمُهُ فَرِحَ بِهِ وَرُئِيَ بِشْرُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهُ رُئِيَ كَرَاهِيَةُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَإِذَا دَخَلَ قَرْيَةً سَأَلَ عَنِ اسْمِهَا، فَإِنْ أَعْجَبَهُ اسْمُهَا فَرِحَ وَرُئِيَ بِشْرُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهَا رُئِيَ كَرَاهِيَةُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے فال بد (بدشگونی) نہیں لیتے تھے اور جب آپ کسی عامل کو بھیجتے تو اس کا نام پوچھتے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا نام پسند آتا تو اس سے خوش ہوتے اور خوشی آپ کے چہرے پر نظر آتی اور اگر وہ پسند نہ آتا تو یہ ناپسندیدگی آپ کے چہرے پر دکھائی پڑتی، اور جب کسی بستی میں داخل ہوتے تو اس کا نام پوچھتے اگر وہ نام اچھا لگتا تو اس سے خوش ہوتے اور یہ خوشی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر دکھائی پڑتی اور اگر وہ ناپسند ہوتا تو یہ ناپسندیدگی آپ کے چہرے پر دکھائی پڑتی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3920]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ قتادة عنعن ¤ ولبعض الحديث شاهد عند الضياء في المختارة بلفظ ”كان يتفأل ولا يتطير ويعجبه الإسم الحسن“ (144/12 ح169) وھو حسن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 1993)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/347) (صحیح)