سنن أبي داود حدیث نمبر: 3919
Sunan Abi Dawud 3919
کتاب #30: کتاب: کہانت اور بدفالی سے متعلق احکام و مسائل
24: باب فِي الطِّيَرَةِ
باب: بدشگونی اور فال بد لینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَأبُو بَكْرِ بْنُ شَيْبَةَ الْمَعْنَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ أَحْمَدُ، الْقُرَشِيُّ قَالَ: " ذُكِرَتِ الطِّيَرَةُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَحْسَنُهَا الْفَأْلُ وَلَا تَرُدُّ مُسْلِمًا فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ، فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ لَا يَأْتِي بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ".
عروہ بن عامر قرشی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس طیرہ (بدشگونی) کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اس کی سب سے اچھی قسم نیک فال، اور اچھا (شگون) ہے، اور فال (شگون) کسی مسلمان کو اس کے ارادہ سے باز نہ رکھے پھر جب تم میں سے کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے ناگوار ہو تو وہ یہ دعا پڑھے: «اللهم لا يأتي بالحسنات إلا أنت ولا يدفع السيئات إلا أنت ولا حول ولا قوة إلا بك» ”اے اللہ! تیرے سوا کوئی بھلائی نہیں پہنچا سکتا اور سوائے تیرے کوئی برائیوں کو روک بھی نہیں سکتا اور برائی سے باز رہنے اور نیکی کے کام کرنے کی طاقت و قوت صرف تیری توفیق ہی سے ملتی ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3919]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سفيان الثوري وحبيب عنعنا ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9899) (ضعیف) (اس کے راوی عروہ قرشی تابعی ہیں اس لئے یہ روایت مرسل ہے)