📖 سنن أبي داود (Sunan Abi Dawud) • تمام کتب ↗

كِتَاب الْعِتْق

کتاب: غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل

کتاب #38 • کل احادیث: 43
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: باب فِي الْمُكَاتَبِ يُؤَدِّي بَعْضَ كِتَابَتِهِ فَيَعْجِزُ أَوْ يَمُوتُ
باب: مکاتب غلام بدل کتابت میں سے کچھ ادا کرے پھر نہ دے سکے یا مر جائے تو کیا حکم ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عُتْبَةَ إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ مُكَاتَبَتِهِ دِرْهَمٌ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکاتب ۱؎ اس وقت تک غلام ہے جب تک اس کے بدل کتابت (آزادی کی قیمت) میں سے ایک درہم بھی اس کے ذمہ باقی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3926]
💡 وضاحت:
۱؎: مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جو اپنے مالک سے کسی مخصوص رقم کی ادائیگی کے بدلے اپنی آزادی کا معاہدہ کر لے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (3399)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8707)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 35 (1260)، سنن ابن ماجہ/العتق 3 (2519)، مسند احمد (2/178، 206، 209) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ، فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَةَ أَوَاقٍ فَهُوَ عَبْدٌ، وَأَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ دِينَارٍ، فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَةَ دَنَانِيرَ فَهُوَ عَبْدٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَيْسَ هُوَ عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ، قَالُوا: هُوَ وَهْمٌ وَلَكِنَّهُ هُوَ شَيْخٌ آخَرُ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس غلام نے سو اوقیہ پر مکاتبت کی ہو پھر اس نے اسے ادا کر دیا ہو سوائے دس اوقیہ کے تو وہ غلام ہی ہے (ایسا نہیں ہو گا کہ جتنا اس نے ادا کر دیا اتنا وہ آزاد ہو جائے) اور جس غلام نے سو دینار پر مکاتبت کی ہو پھر وہ اسے ادا کر دے سوائے دس دینار کے تو وہ غلام ہی رہے گا (جب تک اسے پورا نہ ادا کر دے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3927]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ مشكوة المصابيح (3401) ¤ أخرجه النسائي في الكبريٰ (5026 وسنده حسن) والحديث السابق (2926) شاھد له
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8725)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (5026)، مسند احمد (2/184) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَبْهَانَ مُكَاتَبِ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ كَانَ لِإِحْدَاكُنَّ مُكَاتَبٌ فَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي، فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مکاتب غلام نبھان کہتے ہیں کہ میں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: جب تم عورتوں میں سے کسی کا کوئی مکاتب ہو اور اس کے پاس اتنا مال ہو جس سے وہ اپنا بدل کتابت ادا کر لے جائے تو تمہیں اس سے پردہ کرنا چاہیئے (کیونکہ اب وہ آزاد کی طرح ہے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3928]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (3400) ¤ أخرجه الترمذي (1261 وسنده حسن) وابن ماجه (2520 وسنده حسن) نبھان مولٰي أم سلمة حسن الحديث علي الراجح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/ البیوع 35 (1261)، سنن ابن ماجہ/العتق 3 (2520)، (تحفة الأشراف: 18221)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/289، 308، 311) (ضعیف) (اس کے روای نبھان لین الحدیث ہیں اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے مطابق امھات المؤمنین کا عمل اس کے برعکس تھا، ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل: 1769)
2: باب فِي بَيْعِ الْمُكَاتَبِ إِذَا فُسِخَتِ الْكِتَابَةُ
باب: عقد کتابت فسخ ہو جانے پر مکاتب غلام کو بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ: " أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي، فَعَلْتُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا، فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ، وَيَكُونُ لَنَا وَلَاؤُكِ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَلَيْسَ لَهُ وَإِنْ شَرَطَهُ مِائَةَ مَرَّةٍ شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ".
عروہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے بدل کتابت کی ادائیگی میں تعاون کے لیے ان کے پاس آئیں ابھی اس میں سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا، تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اپنے آدمیوں سے جا کر پوچھ لو اگر انہیں یہ منظور ہو کہ تمہارا بدل کتابت ادا کر کے تمہاری ولاء ۱؎ میں لے لوں تو میں یہ کرتی ہوں، بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے آدمیوں سے جا کر اس کا ذکر کیا تو انہوں نے ولاء دینے سے انکار کیا اور کہا: اگر وہ اسے ثواب کی نیت سے کرنا چاہتی ہیں تو کریں، تمہاری ولاء ہماری ہی ہو گی، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے ان سے فرمایا: تم خرید کر اسے آزاد کر دو ولاء تو اسی کی ہو گی جو آزاد کرے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مسجد میں خطبہ کے لیے) کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگوں کا کیا حال ہے وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہیں، جو شخص بھی ایسی شرط لگائے جو اللہ کی کتاب میں نہ ہو تو اس کی شرط صحیح نہ ہو گی اگرچہ وہ سو بار شرط لگائے، اللہ ہی کی شرط سچی اور مضبوط شرط ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3929]
💡 وضاحت:
۱؎: ولاء وہ ترکہ ہے جسے آزاد کیا ہوا غلام چھوڑ کر مرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2661، 2717) صحيح مسلم (1504)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ المکاتب 2 (2561)، الشروط 11 (2727)، صحیح مسلم/ العتق 2 (1504)، سنن الترمذی/ الوصایا 71 (2124)، سنن النسائی/ البیوع 83 (4659)، (تحفة الأشراف: 16580)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/81) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ لِتَسْتَعِينَ فِي كِتَابَتِهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ، فَأَعِينِينِي، فَقَالَتْ: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا عَدَّةً وَاحِدَةً وَأَعْتِقَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ فَذَهَبَتْ إِلَى أَهْلِهَا وَسَاقَ الْحَدِيثَ نَحْوَ الزُّهْرِيِّ زَادَ فِي كَلَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِهِ مَا بَالُ رِجَالٍ يَقُولُ أَحَدُهُمْ: أَعْتِقْ يَا فُلَانُ وَالْوَلَاءُ لِي إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے بدل کتابت میں تعاون کے لیے ان کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں نے اپنے لوگوں سے نو اوقیہ پر مکاتبت کر لی ہے، ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنا ہے، لہٰذا آپ میری مدد کیجئے، تو انہوں نے کہا: اگر تمہارے لوگ چاہیں تو میں ایک ہی دفعہ انہیں دے دوں، اور تمہیں آزاد کر دوں البتہ تمہاری ولاء میری ہو گی ؛ چنانچہ وہ اپنے لوگوں کے پاس گئیں پھر راوی پوری حدیث زہری والی روایت کی طرح بیان کی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے آخر میں یہ اضافہ کیا کہ: لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ دوسروں سے کہتے ہیں: تم آزاد کر دو اور ولاء میں لوں گا (کیسی لغو بات ہے) ولاء تو اس کا حق ہے جو آزاد کرے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3930]
💡 وضاحت:
۱؎: بریرہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ سے باب کی مطابقت اس طرح ہے کہ: مکاتب غلام کو بیچنا جائز نہیں، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کی خرید و فروخت کو جائز قرار دیا: تو گویا مکاتبت کا معاملہ فسخ کر دیا گیا تب ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کو خریدا اور یہی مطابقت اگلی حدیث میں بھی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2563) صحيح مسلم (1504) ¤ وانظر الحديث السابق (2233)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (2233)، (تحفة الأشراف: 17296) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْأَصْبَغِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ فِي سَهْمِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ أَوِ ابْنِ عَمٍّ لَهُ فَكَاتَبَتْ عَلَى نَفْسِهَا وَكَانَتِ امْرَأَةً مَلَّاحَةً تَأْخُذُهَا الْعَيْنُ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَجَاءَتْ تَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كِتَابَتِهَا فَلَمَّا قَامَتْ عَلَى الْبَابِ، فَرَأَيْتُهَا كَرِهْتُ مَكَانَهَا، وَعَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَرَى مِنْهَا مِثْلَ الَّذِي رَأَيْتُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ وَإِنَّمَا كَانَ مِنْ أَمْرِي مَا لَا يَخْفَى عَلَيْكَ وَإِنِّي وَقَعْتُ فِي سَهْمِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَإِنِّي كَاتَبْتُ عَلَى نَفْسِي، فَجِئْتُكَ أَسْأَلُكَ فِي كِتَابَتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَهَلْ لَكِ إِلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ؟، قَالَتْ: وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: أُؤَدِّي عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَأَتَزَوَّجُكِ، قَالَتْ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَتْ: فَتَسَامَعَ تَعْنِي النَّاسَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَزَوَّجَ جُوَيْرِيَةَ، فَأَرْسَلُوا مَا فِي أَيْدِيهِمْ مِنَ السَّبْيِ، فَأَعْتَقُوهُمْ وَقَالُوا: أَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْنَا امْرَأَةً كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَى قَوْمِهَا مِنْهَا أُعْتِقَ فِي سَبَبِهَا مِائَةُ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا حُجَّةٌ فِي أَنَّ الْوَلِيَّ هُوَ يُزَوِّجُ نَفْسَهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام المؤمنین جویریہ بنت حارث بن مصطلق رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصہ میں آئیں تو جویریہ نے ان سے مکاتبت کر لی، اور وہ ایک خوبصورت عورت تھیں جسے ہر شخص دیکھنے لگتا تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بدل کتابت میں تعاون مانگنے کے لیے آئیں، جب وہ دروازہ پر آ کر کھڑی ہوئیں تو میری نگاہ ان پر پڑی مجھے ان کا آنا اچھا نہ لگا اور میں نے اپنے دل میں کہا کہ عنقریب آپ بھی ان کی وہی ملاحت دیکھیں گے جو میں نے دیکھی ہے، اتنے میں وہ بولیں: اللہ کے رسول! میں جویریہ بنت حارث ہوں، میرا جو حال تھا وہ آپ سے پوشیدہ نہیں ۱؎ ثابت بن قیس کے حصہ میں گئی ہوں، میں نے ان سے مکاتبت کر لی ہے، اور آپ کے پاس اپنے بدل کتابت میں تعاون مانگنے آئی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس سے بہتر کی رغبت رکھتی ہو؟ وہ بولیں: وہ کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارا بدل کتابت ادا کر دیتا ہوں اور تم سے شادی کر لیتا ہوں وہ بولیں: میں کر چکی (یعنی مجھے یہ بخوشی منظور ہے)۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر جب لوگوں نے ایک دوسرے سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جویریہ سے شادی کر لی ہے تو بنی مصطلق کے جتنے قیدی ان کے ہاتھوں میں تھے سب کو چھوڑ دیا انہیں آزاد کر دیا، اور کہنے لگے کہ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرال والے ہیں، ہم نے کوئی عورت اتنی برکت والی نہیں دیکھی جس کی وجہ سے اس کی قوم کو اتنا زبردست فائدہ ہوا ہو، ان کی وجہ سے بنی مصطلق کے سو قیدی آزاد ہوئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث دلیل ہے اس بات کی کہ ولی خود نکاح کر سکتا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3931]
💡 وضاحت:
وضاحت ۱؎: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہے کہ میں ایک رئیس کی صاحبزادی ہوں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ أخرجه أحمد (6/277) محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند ابن الجارود (705)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 16386)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/277، 6/277) (حسن)
3: باب فِي الْعِتْقِ عَلَى الشَّرْطِ
باب: شرط لگا کر غلام آزاد کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوكًا لِأُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: " أُعْتِقُكَ وَأَشْتَرِطُ عَلَيْكَ أَنْ تَخْدُمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتَ، فَقُلْتُ: وَإِنْ لَمْ تَشْتَرِطِي عَلَيَّ مَا فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتُ، فَأَعْتَقَتْنِي وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ".
سفینہ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا غلام تھا، وہ مجھ سے بولیں: میں تمہیں آزاد کرتی ہوں، اور شرط لگاتی ہوں کہ تم جب تک زندہ رہو گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتے رہو گے، تو میں نے ان سے کہا: اگر آپ مجھ سے یہ شرط نہ بھی لگاتیں تو بھی میں جیتے جی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے جدا نہ ہوتا، پھر انہوں نے مجھے اسی شرط پر آزاد کر دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3932]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (3398) ¤ أخرجه ابن ماجه (2526 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/العتق 6 (2526)، (تحفة الأشراف: 4481)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/221) (حسن)
4: باب فِيمَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ
باب: جو شخص غلام کا کچھ حصہ آزاد کر دے اس کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْمَعْنَى، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا" أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ مِنْ غُلَامٍ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَيْسَ لِلَّهِ شَرِيكٌ"، زَادَ ابْنُ كَثِيرٍ فِي حَدِيثِهِ: فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِتْقَهُ.
اسامہ بن عمیر الہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے غلام میں سے اپنے حصہ کو آزاد کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے۔ ابن کثیر نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی آزادی کو نافذ کر دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3933]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ وللحديث شواھد منھا الحديث الآتي (3934)
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الکبری العتق 17 (4970)، (تحفة الأشراف: 134)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/74، 75) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: " أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ مِنْ غُلَامٍ، فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِتْقَهُ وَغَرَّمَهُ بَقِيَّةَ ثَمَنِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک شخص نے کسی غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی آزادی کو نافذ کر دیا اور اس سے اس کے بقیہ قیمت کا تاوان دلایا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3934]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2527) صحيح مسلم (1503) ¤ وانظر الحديث الآتي (3938) ¤
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الشرکة 5 (2492)، 14 (2504)، والعتق 5 (2527)، صحیح مسلم/العتق 1 (1503)، سنن الترمذی/الأحکام 14 (1346)، سنن ابن ماجہ/العتق 7 (2527)، (تحفة الأشراف: 12211)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/255، 347، 426، 468، 472، 531) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ بِإِسْنَادِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ، فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ"، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ سُوَيْدٍ.
قتادہ اس سند سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جس نے کسی ایسے غلام کو جو اس کے اور کسی اور کے درمیان مشترک ہے آزاد کیا تو اس کے ذمہ اس کی مکمل خلاصی ہو گی ۱؎، یہ ابن سوید کے الفاظ ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3935]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی دوسرے شریک کے حصہ کی قیمت بھی اسی کو ادا کرنی ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1502) ¤ وانظر الحديث السابق (3934)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 12211) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّي، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ قَتَادَةَ بِإِسْنَادِهِ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ عَتَقَ مِنْ مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ"، وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ الْمُثَنَّى النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ سُوَيْدٍ.
قتادہ اس سند سے بھی روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو وہ غلام اس کے مال سے پورا آزاد ہو گا اگر اس کے پاس مال ہے۔ اور ابن مثنی نے نضر بن انس کا ذکر نہیں کیا ہے، اور یہ ابن سوید کے الفاظ ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3936]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ وانظر الحديث السابق (3934)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: (3934)، (تحفة الأشراف: 1211) (صحیح)
5: باب مَنْ ذَكَرَ السِّعَايَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: جس شخص کے نزدیک آزاد کرنے والا مفلس ہو تو غلام سے محنت کرائی جائے اس کی دلیل کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي الْعَطَّارَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا فِي مَمْلُوكِهِ، فَعَلَيْهِ أَنْ يُعْتِقَهُ كُلَّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ وَإِلَّا اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر اس کے پاس مال ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے مکمل خلاصی دلائے اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی پھر اور شریکوں کے حصوں کے بقدر اس سے محنت کرائی جائے گی، بغیر اسے مشقت میں ڈالے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3937]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ وانظر الحديث السابق (3934)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: (3934)، (تحفة الأشراف: 12211) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ. ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ أَوْ شَقِيصًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ، فَخَلَاصُهُ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ قُوِّمَ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ ثُمَّ اسْتُسْعِيَ لِصَاحِبِهِ فِي قِيمَتِهِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: فِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا، فَاسْتُسْعِيَ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ وَهَذَا لَفْظُ عَلِيٍّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو اگر وہ مالدار ہے تو اس پر اس کی مکمل خلاصی لازم ہو گی اور اگر وہ مالدار نہیں ہے تو غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی پھر اس قیمت میں دوسرے شریک کے حصہ کے بقدر اس سے اس طرح محنت کرائی جائے گی کہ وہ مشقت میں نہ پڑے (یہ علی کے الفاظ ہیں)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3938]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2527) صحيح مسلم (1503)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: (3934)، (تحفة الأشراف: 12211) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ سَعِيدٍ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ لَمْ يَذْكُرِ السِّعَايَةَ، وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، وَمُوسَى بْنُ خَلَفٍ جَمِيعًا، عَنْ قَتَادَةَ، بِإِسْنَادِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، وَمَعْنَاهُ وَذَكَرَا فِيهِ السِّعَايَةَ.
اس سند سے سعید سے بھی اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے روح بن عبادہ نے سعید بن ابی عروبہ سے روایت کیا ہے انہوں نے «سعایہ» کا ذکر نہیں کیا ہے، اور اسے جریر بن حازم اور موسیٰ بن خلف نے قتادہ سے یزید بن زریع کی سند سے اسی کے مفہوم کے ساتھ روایت کیا ہے اور ان دونوں نے اس میں «سعایہ» کا ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3939]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ وانظر الحديث السابق (3938)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: (3934)، (تحفة الأشراف: 12211) (صحیح)
6: باب فِيمَنْ رَوَى أَنَّهُ، لاَ يَسْتَسْعِي
باب: جنہوں نے اس حدیث میں محنت کرانے کا ذکر نہیں کیا ان کی دلیل کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ أُقِيمَ عَلَيْهِ قِيمَةُ الْعَدْلِ، فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ وَأُعْتِقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے رویت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (مشترک) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس غلام کی واجبی قیمت لگا کر ہر ایک شریک کو اس کے حصہ کے مطابق ادا کرے گا اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو جتنا آزاد ہوا ہے اتنا ہی حصہ آزاد رہے گا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3940]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2522) صحيح مسلم (1501)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الشرکة 5 (2491)، 14 (2503)، العتق 4 (2522)، صحیح مسلم/العتق 1 (1501)، الأیمان 12 (1501)، سنن النسائی/البیوع 104 (4703)، سنن ابن ماجہ/العتق 7 (2528)، (تحفة الأشراف: 8328)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العتق 1 (1)، مسند احمد (1/56) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: وَكَانَ نَافِعٌ رُبَّمَا، قَالَ: فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْهُ.
اس سند سے بھی اسی مفہوم کی روایت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے۔ راوی کہتے ہیں: نافع نے کبھی «فقد عتق منه ما عتق» کی روایت کی ہے اور کبھی نہیں کی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3941]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1501)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ الشرکة 5 (2491)، العتق 4 (2524)، صحیح مسلم/ العتق 1 (1501)، سنن الترمذی/ الأحکام 14 (1346)، سنن النسائی/ البیوع 104 (4703)، (تحفة الأشراف: 7511)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/15) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ أَيُّوبُ: فَلَا أَدْرِي هُوَ فِي الْحَدِيثِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ شَيْءٌ قَالَهُ نَافِعٌ وَإِلَّا عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ.
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے ایوب کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ «وإلا عتق منه ما عتق» نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا حصہ ہے یا نافع کا قول ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3942]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2524) صحيح مسلم (1501)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 7511) (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا مِنْ مَمْلُوكٍ لَهُ، فَعَلَيْهِ عِتْقُهُ كُلِّهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ عَتَقَ نَصِيبَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (مشترک) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس پر اس کی مکمل آزادی لازم ہے اگر اس کے پاس اتنا مال ہو کہ اس کی قیمت کو پہنچ سکے، اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو صرف اس کا حصہ آزاد ہو گا (اور باقی شرکاء کو اختیار ہو گا چاہیں تو آزاد کریں اور چاہیں تو غلام رہنے دیں)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3943]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2523) صحيح مسلم (1501 بعد ح1667)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8083)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العتق 4 (2523)، صحیح مسلم/الأیمان والنذور 12 (1501)، سنن الترمذی/الأحکام 14 (1346)، سنن النسائی/البیوع 104 (4703) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُوسَى.
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ابراہیم بن موسیٰ کی روایت کے ہم معنی روایت مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3944]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2525) صحيح مسلم (1501) ¤ مشكوة المصابيح (3397)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العتق 4 (2525تعلیقًا) صحیح مسلم/ العتق 1 (1501)، سنن النسائی/ الکبری (4958)، (تحفة الأشراف: 8521) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى مَالِكٍ وَلَمْ يَذْكُرْ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ انْتَهَى حَدِيثُهُ إِلَى وَأُعْتِقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ عَلَى مَعْنَاهُ.
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مالک کی روایت کے ہم معنی روایت مرفوعاً مروی ہے مگر اس میں: «وإلا فقد عتق منه ما عتق» کا ٹکڑا مذکور نہیں اور «وأعتق عليه العبد» کے ٹکڑے ہی پر روایت ختم ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3945]
💡 وضاحت:
۱؎: ابوہریرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی جملہ روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کرنے والا اگر مالدار ہے تو بقیہ حصہ کی قیمت اپنے شریک کو ادا کرے گا اور غلام آزاد ہو جائے گا، ورنہ غلام سے بقیہ رقم کے لیے بغیر دباؤ کے محنت کرائی جائے گی، اور جب یہ بھی ممکن نہ ہو تو بقیہ حصہ غلام ہی باقی رہے گا، اور اسی کے بقدر وہ اپنے دوسرے مالک کی خدمت کرتا رہے گا۔ اس مفہوم کے اعتبار سے روایات میں کوئی اختلاف نہیں ہے (فتح الباری)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2503)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ الشرکة 14 (2503)، (تحفة الأشراف: 7617) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ عَتَقَ مِنْهُ مَا بَقِيَ فِي مَالِهِ إِذَا كَانَ لَهُ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (مشترک) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو جتنا حصہ باقی بچا ہے وہ بھی اسی کے مال سے آزاد ہو گا بشرطیکہ اس کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ غلام کی قیمت کو پہنچ سکے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3946]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1501 بعد ح 1667)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/ العتق 1 (1501)، سنن الترمذی/ الأحکام 14 (1347)، سنن النسائی/ الکبری (4944)، (تحفة الأشراف: 6935)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/34) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَ اثْنَيْنِ، فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا يُقَوَّمُ عَلَيْهِ قِيمَةً لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ ثُمَّ يُعْتَقُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو پھر ان میں سے ایک شخص اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر آزاد کرنے والا مالدار ہو تو اس غلام کی واجبی قیمت ٹھہرائی جائے گی نہ کم نہ زیادہ پھر وہ غلام آزاد کر دیا جائے گا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3947]
💡 وضاحت:
۱؎: اور اپنا حصہ آزاد کرنے والا اس واجبی قیمت میں سے جتنا حصہ دوسرے شریک کا ہو گا اسے ادا کرے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2521) صحيح مسلم (1501 بعد ح 1667) ¤ مشكوة المصابيح (3405)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ العتق 4 (2521)، صحیح مسلم/ العتق 1 (1501)، سنن النسائی/ الکبری (1541)، (تحفة الأشراف: 6788)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/11) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ الْعَنْبَرِيِّ، عَنْ ابْنِ التَّلِبِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا"أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ، فَلَمْ يُضَمِّنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ أَحْمَدُ: إِنَّمَا هُوَ بِالتَّاءِ يَعْنِي التَّلِبَّ وَكَانَ شُعْبَةُ أَلْثَغُ لَمْ يُبَيِّنِ التَّاءَ مِنَ الثَّاءِ.
تلب بن ثعلبہ تمیمی عنبری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باقی قیمت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔ احمد کہتے ہیں: (صحابی کا نام) تلب تائے فوقانیہ سے ہے نہ کہ ثلب ثائے مثلثہ سے اور راوی حدیث شعبہ ہکلے تھے یعنی ان کی زبان سے تاء ادا نہیں ہوتی تھی وہ تاء کو ثاء کہتے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3948]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ملقام مستور ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 0502) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ملقام بن تلب مجہول الحال ہیں، اور ان کی یہ روایت سابقہ صحیح روایات کے مخالف ہے)
7: باب فِيمَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ
باب: جو کسی محرم رشتہ دار کا مالک ہو تو کیا کرے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ مُوسَى فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، فِيمَا يَحْسِبُ حَمَّادٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَاصِمٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ الْحَدِيثِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَمْ يُحَدِّثْ ذَلِكَ الْحَدِيثَ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَقَدْ شَكَّ فِيهِ.
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی قرابت دار محرم کا مالک ہو جائے تو وہ (ملکیت میں آتے ہی) آزاد ہو جائے گا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: محمد بن بکر برسانی نے حماد بن سلمہ سے، حماد نے قتادہ اور عاصم سے، انہوں نے حسن سے، حسن نے سمرہ سے، سمرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے ہم مثل روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اس حدیث کو حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے اور انہیں اس میں شک ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3949]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ مشكوة المصابيح (3393) ¤ قتادة تابعه عاصم الأحول عند الترمذي (1365)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأحکام 28 (1365)، سنن ابن ماجہ/العتق 5 (2524)، (تحفة الأشراف: 18534، 18469، 185469)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (4898، 4899)، مسند احمد (5/15، 18، 20) (صحیح) (متابعات سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ ثقات نے مرفوعاً روایت کرنے میں حماد کی مخالفت کی ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرّ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جو کسی قرابت دار محرم کا مالک ہو جائے تو وہ (ملکیت میں آتے ہی) آزاد ہو جائے گا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3950]
قال الشيخ الألباني: ضعيف موقوف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قتادة ولد بعد شهادة عمر رضي اللّٰه عنه بنيف وثلاثين سنة (وھو مدلس تقدم: 29) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4585، 18469، 18534) (ضعیف) (سند میں قتادہ و عمر کے درمیان انقطاع ہے، لیکن پچھلی مرفوع سند سے یہ روایت صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: " مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ".
حسن کہتے ہیں جو کسی قرابت دار محرم کا مالک ہو جائے تو (وہ ملکیت میں آتے ہی) آزاد ہو جائے گا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3951]
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سعيد بن أبي عروبة وقتادة عنعنا ¤ و للحديث شاھد ضعيف في مصنف ابن أبي شيبة (33/6 ح20079) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 141
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 18534، 18469، 4585) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ وَالْحَسَنِ مِثْلَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَعِيدٌ أَحْفَظُ مِنْ حَمَّادٍ.
جابر بن زید اور حسن سے بھی اسی کے ہم مثل مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: سعید حماد (حماد بن سلمہ) سے زیادہ یاد رکھنے والے ہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3952]
💡 وضاحت:
۱؎: مؤلف کا مقصد یہ ہے کہ: حماد نے قتادہ کے واسطے سے اس کو مرفوعاً روایت کیا ہے (جیسا کہ حدیث نمبر:۳۹۴۹ میں ہے) مگر سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ کے واسطے سے یا تو عمر رضی اللہ عنہ کے قول سے یا حسن کے قول سے روایت کیا ہے، اور ابن ابی عروبہ حماد کے بالمقابل زیادہ یاد رکھنے والے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سعيد بن أبي عروبة وقتادة عنعنا ¤ و للحديث شاھد ضعيف في مصنف ابن أبي شيبة (33/6 ح20079) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 141
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 18534، 18469، 4585) (صحیح)
8: باب فِي عِتْقِ أُمَّهَاتِ الأَوْلاَدِ
باب: ام ولد (بچے والی لونڈی) مالک کے مرنے کے بعد آزاد ہو جائے گی۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ خَطَّابِ بْنِ صَالِحٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ سَلَامَةَ بِنْتِ مَعْقِلٍ امْرَأَةٍ مِنْ خَارِجَةِ قَيْسِ عَيْلَانَ، قَالَتْ: " قَدِمَ بِي عَمِّي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَبَاعَنِي مِنْ الْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو، أَخِي أَبِي الْيُسْرِ بْنِ عَمْرٍو، فَوَلَدْتُ لَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحُبَابِ، ثُمَّ هَلَكَ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: الْآنَ وَاللَّهِ تُبَاعِينَ فِي دَيْنِهِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ مِنْ خَارِجَةِ قَيْسِ عَيْلَانَ قَدِمَ بِي عَمِّي الْمَدِينَةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَبَاعَنِي مِنْ الْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو أَخِي أَبِي الْيُسْرِ بْنِ عَمْرٍو، فَوَلَدْتُ لَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحُبَابِ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: الْآنَ وَاللَّهِ تُبَاعِينَ فِي دَيْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ وَلِيُّ الْحُبَابِ؟ قِيلَ: أَخُوهُ أَبُو الْيُسْرِ بْنُ عَمْرٍو، فَبَعَثَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَعْتِقُوهَا، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَقِيقٍ قَدِمَ عَلَيَّ فَأْتُونِي أُعَوِّضْكُمْ مِنْهَا، قَالَتْ: فَأَعْتَقُونِي وَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقِيقٌ، فَعَوَّضَهُمْ مِنِّي غُلَامًا".
بنی خارجہ قیس عیلان کی ایک خاتون سلامہ بنت معقل کہتی ہیں کہ جاہلیت میں مجھے میرے چچا لے کر آئے اور ابوالیسر بن عمرو کے بھائی حباب بن عمرو کے ہاتھ بیچ دیا، ان سے عبدالرحمٰن بن حباب پیدا ہوئے، پھر وہ مر گئے تو ان کی بیوی کہنے لگی: قسم اللہ کی اب تو ان کے قرضہ میں بیچی جائے گی، یہ سن کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بنی خارجہ قیس عیلان کی ایک خاتون ہوں، جاہلیت میں میرے چچا مدینہ لے کر آئے اور ابوالیسر بن عمرو کے بھائی حباب بن عمرو کے ہاتھ مجھے بیچ دیا ان سے میرے بطن سے عبدالرحمٰن بن حباب پیدا ہوئے، اب ان کی بیوی کہتی ہے: قسم اللہ کی تو ان کے قرض میں بیچی جائے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: حباب کا وارث کون ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: ان کے بھائی ابوالیسر بن عمرو ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہلا بھیجا کہ اسے (سلامہ کو) آزاد کر دو، اور جب تم سنو کہ میرے پاس غلام اور لونڈی آئے ہیں تو میرے پاس آنا، میں تمہیں اس کا عوض دوں گا، سلامہ کہتی ہیں: یہ سنا تو ان لوگوں نے مجھے آزاد کر دیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلام اور لونڈی آئے تو آپ نے میرے عوض میں انہیں ایک غلام دے دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3953]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن إسحاق عنعن ¤ وأم خطاب: لا تعرف (تق: 8727) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 141
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15899)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/360) (ضعیف الإسناد) (اس کی راویہ ام خطاب مجہول ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " بِعْنَا أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ نَهَانَا فَانْتَهَيْنَا.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں ام ولد ۱؎ کو بیچا کرتے تھے، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو انہوں نے ہمیں اس کے بیچنے سے روک دیا چنانچہ ہم رک گئے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3954]
💡 وضاحت:
۱؎: ام ولد: اس لونڈی کو کہتے ہیں جو مالک کے نطفہ سے بچہ جنے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (3395) ¤ قيس ھو ابن سعد
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2835، 2475)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/العتق 2 (2517) (صحیح)
9: باب فِي بَيْعِ الْمُدَبَّرِ
باب: مدبر (یعنی وہ غلام جس کو مالک نے اپنی موت کے بعد آزاد کر دیا ہو) کو بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، وَإِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، " أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبِيعَ بِسَبْعِ مِائَةِ أَوْ بِتِسْعِ مِائَةِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد کر دیا اور اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہ تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بیچنے کا حکم دیا تو وہ سات سویا نو سو میں بیچا گیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3955]
💡 وضاحت:
۱؎: مدبر: اس غلام کو کہتے ہیں جس کا مالک اس سے یہ کہہ دے کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2230) صحيح مسلم (997 بعد ح1668)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 59 (2141)، الاستقراض 16 (2403)، الخصومات 3 (2415)، العتق 9 (2534)، کفارات الأیمان 7 (6716)، الإکراہ 4 (6947)، الأحکام 32 (7186)، سنن النسائی/الزکاة 60 (2547)، سنن ابن ماجہ/العتق 1 (2512)، مسند احمد (3/305، 368، 369، 370، 371، 390)، سنن الدارمی/البیوع 37 (2615) (تحفة الأشراف: 2416، 2443)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزکاة 13 (997)، الأیمان 13 (997)، سنن الترمذی/البیوع 11(1219) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِهَذَا، زَادَ وَقَالَ: يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْتَ أَحَقُّ بِثَمَنِهِ وَاللَّهُ أَغْنَى عَنْهُ.
عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ مجھ سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے یہی روایت بیان کی ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس غلام کی قیمت کے زیادہ حقدار تم ہو اور اللہ اس سے بےپرواہ ہے (یعنی اگر آزاد ہوتا تو اللہ زیادہ خوش ہوتا پر وہ بے نیاز ہے، اور بندہ محتاج ہے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3956]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2425)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (5001) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو مَذْكُورٍ أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ يُقَالُ لَهُ: يَعْقُوبُ، عَنْ دُبُرٍ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَنْ يَشْتَرِيهِ فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ النَّحَّامِ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ، فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا، فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ فَإِنْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ فَعَلَى عِيَالِهِ فَإِنْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ فَعَلَى ذِي قَرَابَتِهِ، أَوْ قَالَ: عَلَى ذِي رَحِمِهِ فَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَهَهُنَا وَهَاهُنَا".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک ابومذکور نامی انصاری نے اپنے یعقوب نامی ایک غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد کر دیا، اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہیں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: اسے کون خریدتا ہے؟ چنانچہ نعیم بن عبداللہ بن نحام نے آٹھ سو درہم میں اسے خرید لیا تو آپ نے اسے انصاری کو دے دیا اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی محتاج ہو تو اسے اپنی ذات سے شروع کرنا چاہیئے، پھر جو اپنے سے بچ رہے تو اسے اپنے بال بچوں پر صرف کرے پھر اگر ان سے بچ رہے تو اپنے قرابت داروں پر خرچ کرے یا فرمایا: اپنے ذی رحم رشتہ داروں پر خرچ کرے اور اگر ان سے بھی بچ رہے تو یہاں وہاں خرچ کرے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3957]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اپنے دوستوں پر اور اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (997)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/ الزکاة 13 (997)، سنن النسائی/ الزکاة 60 (547)، (تحفة الأشراف: 2667)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/301، 369) (صحیح)
10: باب فِيمَنْ أَعْتَقَ عَبِيدًا لَهُ لَمْ يَبْلُغْهُمُ الثُّلُثُ
باب: کوئی شخص اپنے غلاموں کو آزاد کرے جو تہائی مال سے زائد ہوں تو کیا حکم ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْن، " أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: قَوْلًا شَدِيدًا ثُمَّ دَعَاهُمْ، فَجَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلاموں کو آزاد کر دیا ان کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا، یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اس اسے سخت سست کہا پھر انہیں بلایا اور ان کے تین حصے کئے: پھر ان میں قرعہ اندازی کی پھر ان میں سے دو کو (جن کے نام قرعہ میں نکلے) آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3958]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1668)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحدود 12 (1668)، سنن الترمذی/الأحکام 27 (1364)، سنن النسائی/الجنائز 65 (1960)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 20 (2345)، (تحفة الأشراف: 10880)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/426، 431، 438، 440) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ وَلَمْ يَقُلْ، فَقَالَ لَهُ: قَوْلًا شَدِيدًا وَمَعْنَاهُ وَلَمْ يَقُلْ، فَقَالَ لَهُ: قَوْلًا شَدِيدًا.
اس سند سے بھی ابوقلابہ سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اور اس میں یہ نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سخت سست کہا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3959]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ انظر الحديث السابق (2958)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10880) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ الطَّحَّانُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ بِمَعْنَاهُ، وَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ شَهِدْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُدْفَنَ لَمْ يُدْفَنْ فِي مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ.
ابوزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے ... آگے انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی اس میں یہ ہے کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اس کے دفن کئے جانے سے پہلے موجود ہوتا تو وہ مسلمانوں کے قبرستان میں نہ دفنایا جاتا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3960]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (3390) ¤ أبو زيد ھو عمرو بن أخطب رضي الله عنه
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10695) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، وَأَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، " أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ عِنْدَ مَوْتِهِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ کے چھ غلاموں کو آزاد کر دیا ان کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا پھر یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی پھر دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی باقی رکھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3961]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح، صحيح مسلم (1668)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: (3958)، (تحفة الأشراف: 10839) (صحیح)
11: باب فِيمَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ
باب: جو شخص اپنے مالدار غلام کو آزاد کرے تو مال مالک کا ہو گا۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُ الْعَبْدِ لَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَهُ السَّيِّدُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی غلام کو آزاد کرے اور اس کے پاس مال ہو تو غلام کا مال آزاد کرنے والے کا ہے اِلا یہ کہ مالک اس کو غلام کو دیدے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3962]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی آزاد کرتے وقت یہ کہہ دے کہ یہ مال بھی تیرا ہے تجھے ہی دیدوں گا تو اس صورت میں یہ مال غلام کا ہو گا، یعنی  «يشترطه» بمعنی «يعطيه» ہے، اس کا ایک ترجمہ یوں بھی ہے پس غلام کا مال اسی کا ہوگا الا یہ کہ مالک شرط کر لے (کہ مال میرا ہو گا)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح، صحيح بخاري (2379) ¤ مشكوة المصابيح (3396، 3405) ¤ وأخرجه ابن ماجه (2529 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/العتق 8 (2529)، (تحفة الأشراف: 7604) (صحیح)
12: باب فِي عِتْقِ وَلَدِ الزِّنَا
باب: جو غلام یا لونڈی ولد الزنا ہو اس کو آزاد کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ"، وقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَأَنْ أُمَتِّعَ بِسَوْطٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ وَلَدَ زِنْيَةٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زنا کا بچہ تینوں میں سب سے برا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی راہ میں ایک کوڑا دینا میرے نزدیک ولد الزنا کو آزاد کرنے سے بہتر ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3963]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 12601)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/311) (صحیح)
13: باب فِي ثَوَابِ الْعِتْقِ
باب: غلام آزاد کرنے کا ثواب۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ الْغَرِيفِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ: أَتَيْنَا وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، فَقُلْنَا لَهُ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا لَيْسَ فِيهِ زِيَادَةٌ وَلَا نُقْصَانٌ، فَغَضِبَ، وَقَالَ: إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَقْرَأُ وَمُصْحَفُهُ مُعَلَّقٌ فِي بَيْتِهِ فَيَزِيدُ وَيَنْقُصُ، قُلْنَا: إِنَّمَا أَرَدْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَاحِبٍ لَنَا أَوْجَبَ يَعْنِي النَّارَ بِالْقَتْلِ، فَقَالَ: " أَعْتِقُوا عَنْهُ يُعْتِقِ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ".
غریف بن دیلمی کہتے ہیں ہم واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ہم نے ان سے کہا: آپ ہم سے کوئی حدیث بیان کیجئے جس میں کوئی زیادتی و کمی نہ ہو، تو وہ ناراض ہو گئے اور بولے: تم میں سے کوئی قرآن پڑھتا ہے اور اس کے گھر میں مصحف لٹک رہا ہے تو وہ اس میں کمی و زیادتی کرتا ہے، ہم نے کہا: ہمارا مقصد یہ ہے کہ آپ ہم سے ایسی حدیث بیان کریں جسے آپ نے (براہ راست) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کا مسئلہ لے کر آئے جس نے قتل کا ارتکاب کر کے اپنے اوپر جہنم کو واجب کر لیا تھا، آپ نے فرمایا: اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ہرہر جوڑ کے بدلہ اس کا ہر جوڑ جہنم سے آزاد کر دے گا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3964]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (3386) ¤ قال ابي رحمه الله: (عبد الله) الغريف بن الديلمي: حسن الحديث، و ثقه الحاكم وغيره، قلت يعني معاذ في ھذا الحديث: صححه ابن حبان (الاحسان: 640) والحاكم (2/ 212 ح 2843، 2844) ووافقه الذهبي وصححه ابن الملقن (البدر المنير: 8/ 503)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11748)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/490، 4/107) (ضعیف) (اس کے راوی غریف لین الحدیث ہیں)
14: باب أَىِّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ
باب: کون سا غلام آزاد کرنا زیادہ بہتر ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ، قَالَ: " حَاصَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَصْرِ الطَّائِفِ، قَالَ مُعَاذٌ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ بِقَصْرِ الطَّائِفِ بِحِصْنِ الطَّائِفِ كُلَّ ذَلِكَ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَهُ دَرَجَةٌ"، وَسَاقَ الْحَدِيثَ. وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَجُلًا مُسْلِمًا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهِ عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِهِ مِنَ النَّارِ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مُسْلِمَةً فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِهَا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ابونجیح سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طائف کے محل کا محاصرہ کیا۔ معاذ کہتے ہیں: میں نے اپنے والد کو طائف کا محل اور طائف کا قلعہ دونوں کہتے سنا ہے۔ تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے اللہ کی راہ میں تیر مارا تو اس کے لیے ایک درجہ ہے پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ: جس مسلمان مرد نے کسی مسلمان مرد کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر ہڈی کے لیے اس کے آزاد کردہ شخص کی ہر ہڈی کو جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بنا دے گا، اور جس عورت نے کسی مسلمان عورت کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر ہڈی کے لیے اس کے آزاد کردہ عورت کی ہر ہڈی کو جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بنا دے گا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3965]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (3873) ¤ قتادة صرح بالسماع عند البيھقي (9/161) وأبو نجيح ھو عمرو بن سلمة رضي الله عنه
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/فضائل الجھاد 11 (1638)، سنن النسائی/الجھاد 26 (3145)، (تحفة الأشراف: 10768)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/113، 384، 386) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السَّمْطِ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً كَانَتْ فِدَاءَهُ مِنَ النَّارِ".
شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ انہوں نے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہم سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے (براہ راست) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے کسی مسلمان گردن کو آزاد کیا تو وہ دوزخ سے اس کا فدیہ ہو گا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3966]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ ورواه حريز بن عثمان عن سليم بن عامر انظر مسند أحمد (4/386) وللحديث شواھد كثيرة
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/فضائل الجھاد 9 (1634)، سنن النسائی/الجھاد 26 (3144)، (تحفة الأشراف: 10755)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/112، 386) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السَّمْطِ، أَنَّهُ قَالَ: لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ أَوْ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَى مُعَاذٍ إِلَى قَوْلِهِ: " وَأَيُّمَا امْرِئٍ أَعْتَقَ مُسْلِمًا، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مُسْلِمَةً، زَادَ وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَعْتَقَ امْرَأَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ، إِلَّا كَانَتَا فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزِئُ مَكَانَ كُلِّ عَظْمَيْنِ مِنْهُمَا عَظْمٌ مِنْ عِظَامِهِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: سَالِمٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ شُرَحْبِيلَ، مَاتَ شُرَحْبِيلُ بِصِفِّينَ.
شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ انہوں نے کعب بن مرہ یا مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، پھر راوی نے آپ کے فرمان: «وأيما امرئ أعتق مسلما وأيما امرأة أعتقت امرأة مسلمة» تک معاذ جیسی روایت بیان کی، اور یہ اضافہ کیا: جو مرد کسی دو مسلمان عورت کو آزاد کرے تو وہ دونوں اسے جہنم سے چھڑا دیں گی، ان دونوں کی دو ہڈیاں اس کی ایک ایک ہڈی کے قائم مقام ہوں گی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سالم نے شرحبیل سے نہیں سنا ہے (اس لیے یہ حدیث منقطع ہے) شرحبیل کی وفات صفین میں ہوئی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3967]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (2522) ¤ السند منقطع وحديث أبي نجيح السلمي (الأصل: 3965) يغني عنه ¤ ويأتي طرفه عند الترمذي (1634ضعيف) والنسائي (3146 ضعيف) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 141
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/ الأحکام (2522)، (تحفة الأشراف: 11163)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/234، 235، 321) (صحیح)
15: باب فِي فَضْلِ الْعِتْقِ فِي الصِّحَّةِ
باب: صحت و تندرستی کی حالت میں غلام آزاد کرنے کی فضیلت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا محُمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِى إِسْحَاق، عَنْ أَبِى حَبِيبَةَ الطَّائِيَّ، عَنْ أَبِى الدَّردْاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الَّذِي يَعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي إِذَا شبعَ".
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مرتے وقت غلام آزاد کرے تو اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی آسودہ ہو جانے کے بعد ہدیہ دے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3968]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ ورواه الشعبة عن أبي إسحاق انظر سنن النسائي (3644 وسنده حسن، وأبو إسحاق السبيعي صرح بالسماع عنده أيضًا)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الوصایا 7 (2123)، سنن النسائی/الوصایا 1 (3644)، (تحفة الأشراف: 10970)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/197، 6/447) (ضعیف) (اس کے راوی ابو حبیبہ لین الحدیث ہیں)
← پچھلی کتاب #37 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #39 →