سنن أبي داود حدیث نمبر: 3928
Sunan Abi Dawud 3928
کتاب #31: کتاب: غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل
1: باب فِي الْمُكَاتَبِ يُؤَدِّي بَعْضَ كِتَابَتِهِ فَيَعْجِزُ أَوْ يَمُوتُ
باب: مکاتب غلام بدل کتابت میں سے کچھ ادا کرے پھر نہ دے سکے یا مر جائے تو کیا حکم ہے؟
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَبْهَانَ مُكَاتَبِ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ كَانَ لِإِحْدَاكُنَّ مُكَاتَبٌ فَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي، فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مکاتب غلام نبھان کہتے ہیں کہ میں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”جب تم عورتوں میں سے کسی کا کوئی مکاتب ہو اور اس کے پاس اتنا مال ہو جس سے وہ اپنا بدل کتابت ادا کر لے جائے تو تمہیں اس سے پردہ کرنا چاہیئے“ (کیونکہ اب وہ آزاد کی طرح ہے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3928]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (3400) ¤ أخرجه الترمذي (1261 وسنده حسن) وابن ماجه (2520 وسنده حسن) نبھان مولٰي أم سلمة حسن الحديث علي الراجح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/ البیوع 35 (1261)، سنن ابن ماجہ/العتق 3 (2520)، (تحفة الأشراف: 18221)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/289، 308، 311) (ضعیف) (اس کے روای نبھان لین الحدیث ہیں اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے مطابق امھات المؤمنین کا عمل اس کے برعکس تھا، ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل: 1769)