سنن أبي داود حدیث نمبر: 3940
Sunan Abi Dawud 3940
کتاب #31: کتاب: غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل
6: باب فِيمَنْ رَوَى أَنَّهُ، لاَ يَسْتَسْعِي
باب: جنہوں نے اس حدیث میں محنت کرانے کا ذکر نہیں کیا ان کی دلیل کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ أُقِيمَ عَلَيْهِ قِيمَةُ الْعَدْلِ، فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ وَأُعْتِقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے رویت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص (مشترک) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس غلام کی واجبی قیمت لگا کر ہر ایک شریک کو اس کے حصہ کے مطابق ادا کرے گا اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو جتنا آزاد ہوا ہے اتنا ہی حصہ آزاد رہے گا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3940]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (2522) صحيح مسلم (1501)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الشرکة 5 (2491)، 14 (2503)، العتق 4 (2522)، صحیح مسلم/العتق 1 (1501)، الأیمان 12 (1501)، سنن النسائی/البیوع 104 (4703)، سنن ابن ماجہ/العتق 7 (2528)، (تحفة الأشراف: 8328)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العتق 1 (1)، مسند احمد (1/56) (صحیح)