بَابُ مَا جَاءَ فِي صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کا بیان
کتاب #43 • کل احادیث: 17
|
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مسلسل نفلی روزے رکھنا
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: «كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ» . قَالَتْ: «وَمَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلَّا رَمَضَانَ»
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تو ہم کہتے کہ اب آپ روزے ہی رکھیں گے اور افطار کرتے تو ہم کہتے کہ اب آپ افطار ہی کریں گے اور جب سے آپ مدینہ آئے، رمضان المبارک کے علاوہ کسی بھی مکمل مہینے کے آپ نے روزے نہیں رکھے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 297]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده صحيح
تخریج:
سنده صحيح : (سنن ترمذي: 767، وقال: حديث حسن)، صحيح مسلم (1162)
|
|
|
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے رکھنے کا انداز
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «كَانَ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَرَى أَنْ لَا يُرِيدَ أَنْ يُفْطِرَ مِنْهُ، وَيُفْطِرُ مِنْهُ حَتَّى نَرَى أَنْ لَا يُرِيدَ أَنْ يَصُومَ مِنْهُ شَيْئًا. وَكُنْتَ لَا تَشَاءُ أَنْ تَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَا رَأَيْتَهُ مُصَلِّيًا، وَلَا نَائِمًا إِلَا رَأَيْتَهُ نَائِمًا»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مہینے سے اتنے زیادہ روزے رکھتے کہ ہم کہتے آپ افطار نہیں کریں گے اور افطار کرتے تو ہم کہتے کہ آپ اس سے کوئی روزہ بھی نہیں رکھیں گے اور اگر تم رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہیں تو ضرور دیکھ سکیں گے اور اگر سویا ہوا دیکھنا چاہیں تو سویا ہوا بھی ضرور دیکھ سکیں گے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 298]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده صحيح
تخریج:
سنده صحيح : (سنن ترمذي: 769، وقال: حسن صحيح)، صحيح بخاري (1972)
|
|
|
رمضان المبارک کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے رکھنا ؟
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ مِنْهُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ مِنْهُ، وَمَا صَامَ شَهْرًا كَامِلَا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلَّا رَمَضَانَ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے، یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے سے کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور (بسا اوقات کئی کئی دن) آپ روزے نہ رکھتے، حتیٰ کہ ہم کہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے سے اب کوئی روزہ نہیں رکھنا چاہتے۔ اور جب سے آپ (مدینہ منورہ) میں تشریف لائے، آپ نے رمضان المبارک کے علاوہ کسی بھی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 299]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده صحيح
تخریج:
سنده صحيح : صحيح مسلم (1157) من حديث شعبه، صحيح بخاري (1971) من حديث ابي بشر به، مسند ابي داود الطيالسي (2626، نسخة محققة: 2748)
|
|
|
شعبان کے مکمل روزوں سے مراد اکثر روزے ہیں
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: «مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ إِلَا شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ» قَالَ أَبُو عِيسَى: " هَذَا إِسنَادٌ صَحِيحٌ وَهَكَذَا قَالَ: عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ. وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَدْ رَوَى الْحَدِيثَ، عَنْ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ جَمِيعًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ شعبان اور رمضان کے علاوہ مسلسل دو ماہ کے روزے رکھتے میں نے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا۔ امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ اسناد صحیح ہے، راوی نے اسی طرح «عن أبي سلمة عن أم سلمة» کہا ہے۔ یہ حدیث ایک سے زائد لوگوں نے «عن أبي سلمة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کے طریق سے روایت کی ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے یہ حدیث «عن عائشة وأم سلمة رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہو۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 300]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج:
صحيح : (سنن ترمذي: 736، وقال: حديث حسن)، سنن نسائي (150/4 ح2177) اس حدیث کی سند اگرچہ سفیان ثوری کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن سنن نسائی (2128) وغیرہ میں اس کے صحیح شواہد ہیں۔ جن کے ساتھ یہ بھی صحیح ہے۔
|
|
|
شعبان کے اکثر روزے رکھنا معمول نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ لِلَّهِ فِي شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا بَلْ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان سے زیادہ اور کسی بھی مہینے کے بکثرت روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا، آپ شعبان کے بہت کم حصہ کے روزے نہ رکھتے بلکہ تمام شعبان کے روزے رکھتے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 301]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده حسن
تخریج:
سنده حسن : (سنن ترمذي: 737) نیز اسے بخاری (1969) اور مسلم (1156) نے دوسری سند کے ساتھ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف رحمہ اللہ سے بیان کیا ہے۔
|
|
|
ہر ماہ تین روزے رکھنا اور جمعہ کا روزہ ؟
|
|
|
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، وَطَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنُ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ غُرَّةِ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَامٍ وَقَلَّمَا كَانَ يُفْطِرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ»
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینہ کے شروع سے تین دنوں کے روزے رکھتے تھے اور بہت کم ہی جمعہ کے دن کا روزہ آپ نہ رکھتے تھے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 302]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده حسن
تخریج:
سنده حسن : (سنن ترمذي: 742، وقال: حسن غريب)، سنن ابي داود (2450)، صحيح ابن خزيمه (2129)، صحيح ابن حبان (الاحسان: 3637) تنبیہ: حدیث نمبر 303 کے لیے دیکھئے قبل ح 308
|
|
|
مہینے کے تین روزوں میں ایام کا عدم تعین
|
|
|
حدثنا ابوحفص عمرو بن على، ثنا عبدالله بن داود، عن ثور بن يزيد، عن خالد بن معدان، عن ربيعة الجرشي عن عائشة رضي الله عنها قالت: كان النبى صلى الله عليه وسلم يتحرى صوم الاثنين والخميس.
یزید الرشک کہتے ہیں کہ میں نے معاذہ سے سنا، وہ فرماتی تھیں کہ میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ تین روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! میں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کن دنوں میں یہ روزے رکھتے تھے؟ فرمایا: کسی خاص دن کی پرواہ نہیں کرتے تھے، بلکہ کسی بھی دن روزہ رکھ لیتے تھے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یزید الرشک سے یزید ضبعی مراد ہے۔ اور وہ ثقہ ہیں ان سے شعبہ، عبدالوارث بن سعید، حماد بن زید، اسماعیل بن ابراہیم اور دیگر بہت سے ائمہ نے روایت لی ہے۔ یزید القاسم اور یزید القسام سے مراد بھی یہی ہیں، رشک اہل بصرہ کی لغت میں زیادہ تقسیم کرنے والے کو کہتے ہیں۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 303]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده ضعيف
تخریج:
سنده ضعيف :
|
|
|
حدثنا ابوحفص عمرو بن على، ثنا عبدالله بن داود، عن ثور بن يزيد، عن خالد بن معدان، عن ربيعة الجرشي عن عائشة رضي الله عنها قالت: كان النبى صلى الله عليه وسلم يتحرى صوم الاثنين والخميس.
0 [شمائل ترمذي/حدیث: 303M]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده ضعيف
تخریج:
سنده ضعيف :
|
|
|
سوموار اور جمعرات کا روزہ
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ [ص: 251]: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى صَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (ایک) مہینے میں ہفتہ، اتوار اور سوموار کے روزے رکھتے تھے اور دوسرے مہینے میں منگل، بدھ اور جمعرات کے روزے رکھتے تھے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 304]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده صحيح
تخریج:
سنده صحيح : (سنن ترمذي: 745، وقال: حسن غريب)، سنن نسائي (2363) تنبیہ: حدیث نمبر 305 کے لئے دیکھئے بعد ح307
|
|
|
شعبان کے روزے کثرت سے رکھنا
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدِينِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ فِي شَعْبَانَ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوموار اور جمعرات کے دن روزے کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 305]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده صحيح
تخریج:
سنده صحيح : صحيح بخاري (1969)، صحيح مسلم (1156)، موطأ امام مالك (رواية يحييٰ 309/1 ح 695، رواية ابن القاسم: 424)
|
|
|
سوموار اور جمعرات کے روزے کی حکمت
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ فَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(بارگاہ الٰہی میں) سوموار اور جمعرات کے دن پیش کیے جاتے ہیں، میری چاہت ہے کہ میرے اعمال روزے کی حالت میں پیش کیے جائیں۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 306]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده حسن
تخریج:
سنده حسن : (سنن ترمذي: 747، وقال: حسن غريب)، واصله عند مسلم فى صحيحه (2565)
|
|
|
روزوں کے لیے مخصوص ایام ؟
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ السَّبْتَ وَالْأَحَدَ وَالَاثْنَيْنَ، وَمِنَ الشَّهْرِ الْآخَرِ الثُّلَاثَاءَ وَالْأَرْبَعَاءَ وَالْخَمِيسَ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینے میں ہفتے، اتوار اور سوموار کا روزہ رکھتے اور دوسرے مہینے میں منگل، بدھ اور جمعرات کا روزہ رکھتے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 307]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده ضعيف
تخریج:
سنده ضعيف : (سنن ترمذي: 746، وقال: حسن) اس روایت کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے، کیونکہ خیثمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے (کچھ) نہیں سنا۔ دیکھئے نیل المقصود (2128) و انوار الصحیفہ (ص 209) تنبیہ: روایتِ مذکورہ کے بعد اصل مخطوطے میں درج ذیل اضافہ ہے: ابو عیسی (ترمذی) نے کہا: یزید الرشک یزید الضبعی البصری ہیں، وہ ثقہ ہیں، ان سے شعبہ، عبدالوارث بن سعید، حماد بن زید، اسماعیل بن ابراہیم اور کئی اماموں نے روایت بیان کی، وہ یزید القاسم ہیں اور انھیں یزید القسام بھی کہا جاتا ہے۔ اہلِ بصرہ کی زبان میں قسام (بہت اچھے طریقے سے تقسیم کرنے والے) کو رشک کہتے ہیں۔ (یہ اضافہ حدیث نمبر 303 کے آخر میں ہونا چاہئے-واللہ اعلم)
|
|
|
ابتداء میں عاشورہ کا روزہ فرض تھا
|
|
|
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ عَاشُورَاءُ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا افْتُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ رَمَضَانُ هُوَ الْفَرِيضَةُ وَتُرِكَ عَاشُورَاءُ، فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ قریش جاہلیت میں عاشوراء کے دن کا روزہ رکھتے تھے اور اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ روزہ رکھا کرتے تھے، پھر جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے اس دن میں خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا، پھر جب رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے تو صرف رمضان کے روزے بطور فرض رہ گئے اور عاشوراء کا روزہ چھوڑ دیا گیا، جس نے چاہا اس دن کا روزہ رکھ لیا اور جس نے چاہا اسے چھوڑ دیا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 308]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده صحيح
تخریج:
سنده صحيح : (سنن ترمذي: 753، وقال: وهو حديث صحيح)، صحيح بخاري (2002)، وصحيح مسلم (1125)
|
|
|
عبادت کے لیے کسی دن کو مخصوص کرنا
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخُصُّ مِنَ الْأَيَامِ شَيْئًا؟ قَالَتْ: «كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً، وَأَيُّكُمْ يُطِيقُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطِيقُ»
امام علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی دن کو عبادت کے لیے مخصوص کرتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہمیشہ کا ہوتا۔ تم میں کون ہے جو ایسے طاقت رکھتا ہو جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طاقت رکھتے تھے؟ [شمائل ترمذي/حدیث: 309]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج:
صحيح : صحيح بخاري (1987)، وصحيح مسلم (783)
|
|
|
اعمال میں اعتدال ضروری ہے
|
|
|
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي امْرَأَةٌ فَقَالَ: «مَنْ هَذِهِ؟» قُلْتُ: فُلَانَةُ لَا تَنَامُ اللَّيْلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ، فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوا» ، وَكَانَ أَحَبَّ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میرے پاس ایک عورت تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: یہ فلاں عورت ہے، جو ساری رات سوتی نہیں (بلکہ قیام کرتی ہے)، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اعمال اختیار کرو جن کی تم طاقت رکھتے ہو، اللہ کی قسم! بلاشبہ اللہ تعالیٰ (تمہیں ثواب دینے سے) نہیں تھکتا، لیکن تم عمل کرنے سے اکتا جاؤ گے۔“ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے پسندیدہ عمل وہ تھا جس پر اس کا عمل کرنے والا ہمیشگی اختیار کرے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 310]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده صحيح
تخریج:
سنده صحيح : (سنن ترمذي: 2856 ب مختصرا، وقال: صحيح)، صحيح بخاري (6462)
|
|
|
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سے اعمال پسند تھے ؟
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، وَأُمَّ سَلَمَةَ، أَيُّ الْعَمَلِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتَا: «مَا دِيمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ»
ابوصالح فرماتے ہیں کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں کون سا عمل زیادہ پسندیدہ تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: ”جسے ہمیشہ کیا جائے خواہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 311]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج:
صحيح : (سنن ترمذي: 2856، وقال: حسن صحيح غريب)، مسند احمد (32/6، 289) اس روایت کی سند میں سلیمان الاعمش مدلس ہیں اور سماع کی صراحت نہیں، لیکن شواہد کے ساتھ یہ حدیث صحیح ہے۔ مثلاً دیکھئے حدیث سابق: 310
|
|
|
نفلی نماز میں دعائیں اور التجائیں
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَاصِمَ بْنَ حُمَيْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَاسْتَاكَ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ مَعَهُ فَبَدَأَ فَاسْتَفْتَحَ الْبَقَرَةَ فَلَا يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ فَسَأَلَ، وَلَا يَمُرُّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ فَتَعَوَّذَ، ثُمَّ رَكَعَ فَمَكَثَ رَاكِعًا بِقَدْرِ قِيَامِهِ، وَيَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: «سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ» ، ثُمَّ سَجَدَ بِقَدْرِ رُكُوعِهِ، وَيَقُولُ فِي سُجُودِهِ: «سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ» ثُمَّ قَرَأَ آلَ عِمْرَانَ ثُمَّ سُورَةً سُورَةً يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ
عاصم بن حمید فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے کہ میں ایک رات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک کرنے کے بعد وضو کیا اور پھر کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ آپ نے شروع میں سورۃ البقرہ پڑھی، آپ رحمت والی جس آیت سے گزرتے، وہاں ٹھہر کر اللہ تعالیٰ سے اس کا سوال کرتے اور عذاب کی جس آیت سے بھی گزرتے وہاں ٹھہر کر اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو اس میں قیام کے برابر ٹھہرے اور رکوع میں یہ دعا پڑھتے تھے: «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة»، ”یعنی پاک ہے اللہ جو بڑا زبردست اور بادشاہی، بڑائی اور عظمت والا ہے۔“ پھر رکوع کے برابر ہی سجدہ کرتے اور اس میں بھی یہی دعا: «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة» پڑھتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسری رکعت میں) سورۃ آل عمران پڑھی، پھر ایک ایک سورت پڑھتے اور اسی طرح (پہلی رکعت کی طرح) کرتے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 312]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده صحيح
تخریج:
سنده صحيح : سنن ابي داود (873)
|
|