شمائل ترمذی حدیث نمبر: 299
Shamail al-Tirmidhi 299
کتاب #43: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کا بیان
3: بَابُ مَا جَاءَ فِي صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
رمضان المبارک کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے رکھنا ؟
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ مِنْهُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ مِنْهُ، وَمَا صَامَ شَهْرًا كَامِلَا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلَّا رَمَضَانَ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے، یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے سے کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور (بسا اوقات کئی کئی دن) آپ روزے نہ رکھتے، حتیٰ کہ ہم کہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے سے اب کوئی روزہ نہیں رکھنا چاہتے۔ اور جب سے آپ (مدینہ منورہ) میں تشریف لائے، آپ نے رمضان المبارک کے علاوہ کسی بھی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 299]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده صحيح
تخریج:
سنده صحيح : صحيح مسلم (1157) من حديث شعبه، صحيح بخاري (1971) من حديث ابي بشر به، مسند ابي داود الطيالسي (2626، نسخة محققة: 2748)