شمائل ترمذی حدیث نمبر: 297
Shamail al-Tirmidhi 297
کتاب #43: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کا بیان
1: بَابُ مَا جَاءَ فِي صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مسلسل نفلی روزے رکھنا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: «كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ» . قَالَتْ: «وَمَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلَّا رَمَضَانَ»
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تو ہم کہتے کہ اب آپ روزے ہی رکھیں گے اور افطار کرتے تو ہم کہتے کہ اب آپ افطار ہی کریں گے اور جب سے آپ مدینہ آئے، رمضان المبارک کے علاوہ کسی بھی مکمل مہینے کے آپ نے روزے نہیں رکھے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 297]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده صحيح
تخریج:
سنده صحيح : (سنن ترمذي: 767، وقال: حديث حسن)، صحيح مسلم (1162)