شمائل ترمذی حدیث نمبر: 301
Shamail al-Tirmidhi 301
کتاب #43: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کا بیان
5: بَابُ مَا جَاءَ فِي صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
شعبان کے اکثر روزے رکھنا معمول نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ لِلَّهِ فِي شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا بَلْ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان سے زیادہ اور کسی بھی مہینے کے بکثرت روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا، آپ شعبان کے بہت کم حصہ کے روزے نہ رکھتے بلکہ تمام شعبان کے روزے رکھتے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 301]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده حسن
تخریج:
سنده حسن : (سنن ترمذي: 737) نیز اسے بخاری (1969) اور مسلم (1156) نے دوسری سند کے ساتھ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف رحمہ اللہ سے بیان کیا ہے۔