شمائل ترمذی حدیث نمبر: 309
Shamail al-Tirmidhi 309
کتاب #43: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کا بیان
13: بَابُ مَا جَاءَ فِي صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبادت کے لیے کسی دن کو مخصوص کرنا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخُصُّ مِنَ الْأَيَامِ شَيْئًا؟ قَالَتْ: «كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً، وَأَيُّكُمْ يُطِيقُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطِيقُ»
امام علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی دن کو عبادت کے لیے مخصوص کرتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہمیشہ کا ہوتا۔ تم میں کون ہے جو ایسے طاقت رکھتا ہو جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طاقت رکھتے تھے؟ [شمائل ترمذي/حدیث: 309]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج:
صحيح : صحيح بخاري (1987)، وصحيح مسلم (783)