📖 شمائل ترمذی (Shamail al-Tirmidhi) • تمام کتب ↗

بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ إِدَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سالن کا بیان

کتاب #26 • کل احادیث: 34
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
سرکہ بہترین سالن ہے
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ» قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فِي حَدِيثِهِ: «نِعْمَ الْإِدَامُ أَوِ الْأُدْمُ الْخَلُّ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ ایک عمدہ سالن ہے۔“ عبداللہ بن عبدالرحمان نے اپنی حدیث میں «نعم الإدام» یا «الأدام» کہا ہے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 150]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج: صحيح : سنن ترمذي: 1840، وقال: حسن صحيح غريب . صحيح مسلم: 2051، دارالسلام:5350-5351 . سنن عبدالله بن عبدالرحمٰن الدارمي: 101/2 ح 2055
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معمولی قسم کی کھجوریں بھی . . .
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ: «أَلَسْتُمْ فِي طَعَامٍ وَشَرَابٍ مَا شِئِتُمْ؟ لَقَدْ رَأَيْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَجِدُ مِنَ الدَّقَلِ مَا يَمْلَأُ بَطْنَهُ»
سماک بن حرب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: کیا تم چاہت اور مرضی کے کھانے پینے میں (مگن) نہیں ہو؟ حالانکہ میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نکمی اور گھٹیا کھجوریں اتنی بھی نہ ہوتیں جن سے وہ شکم سیری کر سکیں۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 151]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج: صحيح : سنن ترمذي: 2372، وقال: هذا حديث حسن صحيح . صحيح مسلم 2977، دارالسلام: 7459
سرکہ ایک بہترین سالن ہے
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نِعْمَ الْإِدَامُ أَوِ الْأُدْمُ: الْخَلُّ"
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ ایک بہترین سالن ہے۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 152]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج: صحيح : سنن الترمذي: 1842 . سنن ابي داود: 3820 اس روایت کی سند سفیان ثوری (مدلس) کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے اور سنن ابن ماجہ (3317) میں ان کی متابعت قیس بن الربیع (ضعیف راوی) سے مروی ہے، لیکن اس سند میں قیس کا شاگرد جبارہ بن مغلس سخت مجروح اور ساقط العدالت ہے، لہٰذا یہ متابعت مردودہے۔ حدیث سابق (150) صحیح ہے اور اس روایت کا صحیح شاہد ہے، جس کے ساتھ یہ روایت بھی صحیح ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرغی کا گوشت کھایا
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، فَأُتِيَ بِلَحْمِ دَجَاجٍ فَتَنَحَّى رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ: مَا لَكَ؟ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُهَا تَأْكُلُ شَيْئًا فَحَلَفْتُ أَنْ لَا آكُلَهَا قَالَ: «ادْنُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ لَحْمَ دَجَاجٍ»
زہدم الجرمی سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو مرغی کا گوشت لایا گیا تو ایک آدمی کھانے والوں میں سے الگ ہو گیا، (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے) کہا: تجھے کیا ہوا؟ کہنے لگا: میں نے اس کو ایک بدبودار چیز کھاتے ہوئے دیکھا تو میں نے قسم کھا لی کہ اسے کبھی نہ کھاؤں گا۔ تو (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے) کہا: قریب ہو جاؤ، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مرغی کا گوشت کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 153]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج: صحيح : سنن ترمذي:1827، مختصرا وقال: حسن صحيح . صحيح بخاري: 5517 . صحيح مسلم: 1649 من حديث سفيان الثوري به و للحديث طرق عند البخاري (4385) وغيره
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سرخاب کا گوشت کھایا
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ الْبَغْدَادِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَفِينَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «أَكَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمَ حُبَارَى»
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سرخاب کا گوشت کھایا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 154]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج: سنده ضعيف : سنن ترمذي: 1828، وقال: غريب . . . . سنن ابي داود: 3797 یہ روایت اس وجہ سے ضعیف ہے کہ اس کا راوی ابراہیم بن عمر بن سفینہ ضعیف ہے، اسے صرف ابن عدی نے ثقہ قرار دیا اور عقیلی، ابن حبان اور ذہبی یعنی جمہور نے ضعیف قرار دیا۔ (سابقہ) حدیث (153) میں یہ دلیل ہے کہ مرغی حلال ہے اور طیبات میں سے ہے۔
مرغی کا گوشت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی تناول فرمایا
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: فَقَدَّمَ طَعَامَهُ وَقَدَّمَ فِي طَعَامِهِ لَحْمَ دَجَاجٍ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ كَأَنَّهُ مَوْلًى قَالَ: فَلَمْ يَدْنُ فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: «ادْنُ، فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ مِنْهُ» ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ فَحَلَفْتُ أَنْ لَا أَطْعَمَهُ أَبَدًا
زہدم الجرمی سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھانا لایا گیا اور اس کھانے میں مرغی کا گوشت تھا۔ حاضرین میں بنو تیم اللہ کا سرخ رنگ کا ایک شخص بھی موجود تھا جو کہ آزاد شدہ غلام معلوم ہوتا تھا، وہ قریب نہ ہوا تو سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قریب ہو جاؤ، یقیناً میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے کھاتے دیکھا ہے، اس نے کہا: میں نے اسے کچھ (گندی) چیز کھاتے دیکھا تو میں اس سے کراہت کرنے لگا تب میں نے قسم اٹھا لی کہ میں اسے کبھی نہ کھاؤں گا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 155]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : ديكهئيے حديث سابق:153
زیتون کا تیل استعمال کرو
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُقَالُ: لَهُ عَطَاءٌ، عَنْ أَبِي أَسِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ؛ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ»
سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم زیتون کھاؤ اور اس کا تیل استعمال کرو کیونکہ یہ بابرکت درخت (کا پھل) ہے۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 156]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج: صحيح : سنن ترمذي: 1852، وقال: هذا حديث غريب . . . مسند احمد: 497/3 ح 16054 . المعجم الكبير للطبراني: 269/19 . 270 ح 597 روایت مذکورہ میں زھیر بن معاویہ نے سفیان ثوری کی متابعت کر رکھی ہے۔ [ديكهئے المعجم الكبير ح 596 ] عطاء سے مراد ابن ابی رباح نہیں بلکہ کوئی اور شخص ہیں اور حاکم و ذہبی دونوں نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ [المستدرك مع التلخيص 397/2۔ 398 ح 3504 ] لہٰذا وہ حسن الحدیث ہیں اور عبد اللہ بن عیسیٰ بھی جمہور کے نزدیک موثق ہونے کی وجہ سے صدوق حسن الحدیث ہیں۔ اس حدیث کے کئی شواہد بھی ہیں۔ مثلا دیکھئے آنے والی حدیث: 157
زیتون بابرکت درخت ہے
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ؛ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ» قَالَ أَبُو عِيسَى: «وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ كَانَ يَضْطَرِبُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فَرُبَّمَا أَسْنَدَهُ، وَرُبَّمَا أَرْسَلَهُ»
امیر المؤمنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم زیتون کا تیل (اپنے کھانے میں ملا کر) کھاؤ اور اس کی (اپنے جسم پر) مالش کرو، کیونکہ یہ بابرکت درخت (کا پھل) ہے۔“ ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کی سند میں راوی عبدالرزاق کو اضطراب ہوتا ہے، کبھی اس کو مسند بیان کرتے ہیں اور کبھی مرسل بیان کرتے ہیں۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 157]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا السِّنْجِيُّ وَهُوَ أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ السِّنْجِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عُمَرَ
زید بن اسلم نے اپنے والد سے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کیا ہے اور اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا واسطہ ذکر نہیں کیا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 158]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : سنن ترمذي: 1851، و ذكر كلاما . سنن ابن ماجه: 3319 . المستدرك: 122/4 وصححه الحاكم عليٰ شرط الشيخين ووافقه الذهبي و اورده الضياء المقدسي فى المختارة (175/1 ح 83،82)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الدُّبَّاءُ فَأُتِيَ بِطَعَامٍ، أَوْ دُعِيَ لَهُ فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُهُ فَأَضَعُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ لِمَا أَعْلَمُ أَنَّهُ يُحِبُّهُ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھے، آپ کی خدمت میں ایک کھانا لایا گیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کی دعوت دی گئی تو میں اس میں سے کدو تلاش کر کے آپ کے سامنے رکھتا، کیونکہ میں بخوبی جانتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پسند فرماتے ہیں۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 159]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : مسند احمد (177/3، 273، 279 زوائد عبد الله بن احمد، 290) . سنن دارمي: 2057 . السنن الكبريٰ للنسائي: 6664
کدو سے کھانا زیادہ ہوتا ہے
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُ عِنْدَهُ دُبَّاءً يُقَطَّعُ فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: «نُكَثِّرُ بِهِ طَعَامَنَا» قَالَ أَبُو عِيسَى: " وَجَابِرٌ هُوَ جَابِرُ بْنُ طَارِقٍ وَيُقَالُ: ابْنُ أَبِي طَارِقٍ، وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَعْرِفُ لَهُ إِلَا هَذَا الْحَدِيثَ الْوَاحِدَ، وَأَبُو خَالِدٍ اسْمُهُ: سَعْدٌ"
حکیم بن جابر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کدو دیکھے جو کاٹے جا رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: یہ کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے ہم اپنا کھانا زیادہ کر لیں گے۔“ امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث میں جابر سے مراد جابر بن طارق ہیں، ان کو ابن ابی طارق بھی کہا جاتا ہے، صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے جن سے ہمارے علم کے مطابق صرف یہی ایک حدیث مروی ہے، اور سند حدیث میں جو ابوخالد آئے ہیں ان کا نام سعد ہے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 160]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج: سنده ضعيف : سنن ابن ماجه: 3304 اس روایت کی سند اس وجہ سے ضعیف ہے کہ اس کے راوی اسماعیل بن ابی خالد مدلس تھے۔ دیکھئیے: [طبقات المدلسين 36/2، انوار الصحيفه ص 106 ] اور یہ سند عن سے ہے۔ یاد رہے کہ امام وکیع نے حفص بن غیاث کی متابعت کر رکھی ہے اور عنعنہ اسماعیل کے علاوہ باقی سند صحیح ہے۔ دیکھئیے: [مسند الحميدي: 862 بتحقيقي ] شیخ البانی رحمہ اللہ کا تدلیس کے بارے میں موقف تھا، لہٰذا وہ اسماعیل مذکور کی تصریح سماع کے بغیر ہی اس حدیث کو اپنے سلسلہ صیحہ میں لے آئے۔ 525/5 ح 2400)!! ہم اصولِ حدیث کے پابند ہیں، لہٰذا بسا اوقات ایک مدلس راوی کی معنعن روایت میں سماع کی تصریح تلاش کرنے میں کئی کئی دن مشغول اور سرگرداں رہتے ہیں، پھر اس جدوجہد میں مکمل ناکامی کے بعد مجبور ہو کر اس روایت پر ضعف کا حکم لگاتے ہیں اور بعد میں جب بھی صحیح یا حسن سند سے سماع کی تصریح مل جائے تو علانیہ رجوع کرتے ہوئے اس حدیث کو صحیح یا حسن قرار دیتے ہیں اور حق کی طرف رجوع کرنے میں ہمیں لوگوں کی ملامت، تضحیک اور طعن و تشنیع کی کوئی پروا نہیں ہے۔ والحمدلله
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سالن سے کدو تلاش کرتے تھے
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ، قَالَ أَنَسٌ: فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ فَقَرَّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ، وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ، قَالَ أَنَسُ: «فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ حَوَالَيِ الْقَصْعَةِ» فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ مِنْ يَوْمِئِذٍ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک درزی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا، سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کھانے پر گیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کی روٹی اور سالن پیش کیا جس میں شوربہ، کدو اور خشک کیے ہوئے گوشت کے ٹکڑے تھے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ پیالے کے کناروں سے کدو کو تلاش کر رہے ہیں تو اس دن سے میں ہمیشہ کدو کو پسند کرتا ہوں۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 161]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : سنن ترمذي:1850، وقال:حسن صحيح . صحيح بخاري: 5379 . صحيح مسلم: 2041 . موطا امام مالك (روايت يحييٰ 546/2-547 ح 1188)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میٹھی چیز اور شہد پسند تھا
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میٹھا اور شہد بہت پسند تھا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 162]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : سنن ترمذي: 1831، وقال: حسن صحيح غريب . صحيح بخاري: 5431 . صحيح مسلم: 1474
بھنا ہوا گوشت تناول فرمایا
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا «قَرَّبَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنْبًا مَشْوِيًّا فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَمَا تَوَضَّأَ»
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہلو (دستی) کا بھنا ہوا گوشت پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کھایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور وضو نہ کیا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 163]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : سنن ترمذي:1829، وقال: حسن صحيح غريب من هذا الوجه . مسنداحمد: 307/6
مسجد میں کھانا کھانا جائز ہے
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: «أَكَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِوَاءً فِي الْمَسْجِدِ»
سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھنا ہوا گوشت کھایا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 164]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج: سنده ضعيف : سنن ابن ماجه: 3311 اس روایت کی سند میں وجہ ضعف یہ ہے کہ ابن لہیعہ آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے اور ان کا اس حدیث کو اختلاط سے پہلے بیان کرنا ثابت نہیں۔ دیکھئیے: [انوار الصحيفه ص 495]
بھنا ہوا گوشت چھری سے کاٹ کر کھانا
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: ضِفْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَأُتِيَ بِجَنْبٍ مَشْوِيٍّ، ثُمَّ أَخَذَ الشَّفْرَةَ فَجَعَلَ يَحُزُّ، فَحَزَّ لِي بِهَا مِنْهُ قَالَ: فَجَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَأَلْقَى الشَّفْرَةَ فَقَالَ: «مَا لَهُ تَرِبَتْ يَدَاهُ؟» . قَالَ: وَكَانَ شَارِبُهُ قَدْ وَفَى، فَقَالَ لَهُ: «أَقُصُّهُ لَكَ عَلَى سِوَاكٍ» أَوْ «قُصُّهُ عَلَى سِوَاكٍ»
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: میں ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مہمانی پر گیا تو گوشت کا ایک بھنا ہوا پہلو پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چھری لے کر کاٹنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے بھی اس سے (گوشت) کاٹا، (اتنی دیر میں) اچانک سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نماز کی اطلاع دینے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری پھینک دی پھر فرمایا: ”اسے کیا ہو گیا ہے، اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں؟“ راوی نے کہا کہ میری مونچھیں بڑھی ہوئی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں نیچے سواک رکھ کر انہیں کاٹ نہ دوں؟“ یا فرمایا: ”نیچے مسواک رکھ کر انہیں کاٹ دو۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 165]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : سنن ابي داود: 188، مسند احمد: 252/4،255
چھری کی بجائے دانتوں سے نوچ کر کھانا
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَسَ مِنْهَا»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ گوشت لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دست (بونگ) پیش کی گئی اور یہ حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت پسند تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دانتوں سے کاٹ کر کھایا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 166]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : سنن ترمذي: 1837، وقال: حسن صحيح . صحيح بخاري: 4712، صحيح مسلم: 194، ترقيم دارالسلام:480 مطولا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دست (بونگ) پسند تھی
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ زُهَيْرٍ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الذِّرَاعُ» قَالَ: «وَسُمَّ فِي الذِّرَاعِ، وَكَانَ يَرَى أَنَّ الْيَهُودَ سَمُّوهُ»
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (گوشت میں سے) بونگ بڑی پسند تھی۔ فرماتے ہیں کہ بونگ میں ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر ملا کر دیا گیا تھا اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سمجھتے تھے کہ یہود نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا تھا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 167]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج: سنده ضعيف : سنن ابي داود: 3780 - 3781 اس روایت کی سند میں ابواسحاق السبیعی مدلس راوی ہیں اور یہ روایت عن سے ہے، لہٰذا ضعیف ہے۔ دیکھئیے [انوار الصحيفه ص134 ] صحیح بخاری (3340) اور صحیح مسلم (194) کی حدیث اس روایت سے بےنیاز کر دیتی ہے۔
جب تک میں طلب کرتا رہتا تم دیتے رہتے
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: طَبَخْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِدْرًا وَقَدْ كَانَ يُعْجِبُهُ الذِّرَاعُ فَنَاوَلْتُهُ الذِّرَاعَ ثُمَّ قَالَ: «نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ» ، فَنَاوَلْتُهُ ثُمَّ قَالَ: «نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَمْ لِلشَّاةِ مِنْ ذِرَاعٍ فَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ سَكَتَّ لَنَاوَلْتَنِي الذِّرَاعَ مَا دَعَوْتُ»
عبید (ابوعبیدہ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (گوشت کی) ایک ہنڈیا پکائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زراع (بونگ) کا گوشت بہت پسند تھا، تو میں نے آپ کو ایک بونگ پیش کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اور زراع دو۔“ میں نے دوسری پیش کی۔ پھر فرمایا: ”مجھے اور زراع دو۔“ تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک بکری کے کتنے زراع ہوتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم خاموش رہتے تو جب تک میں طلب کرتا جاتا تم مجھے زراع دیتے ہی رہتے۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 168]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف والحديث حسن
تخریج: سنده ضعيف والحديث حسن : مسند احمد: 484/3 - 485 . سنن دارمي: 45 اس روایت کی سند اس وجہ سے ضعیف ہے کہ قتادہ مدلس تھے اور یہ سند عن سے ہے۔ شیخ البانی نے مختصر الشمائل المحمدیہ (143) میں اس روایت کے جو شواہد ذکر کئے ہیں،ان میں سے بعض کی تحقیق درج ذیل ہے: ➊ عن ابی رافع رضی اللہ عنہ [ مسند احمد 8/6 ح23859 ] اس کی سند حسن لذاتہ ہے۔ ➋ عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ [ مسند احمد 517/2 ح 10706 ] اس کی سند محمد بن عجلان مدلس کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے۔ خلاصہ یہ کہ شاہد نمبر 1 کے ساتھ یہ روایت بھی حسن ہے۔
بونگ کا گوشت کیوں پسند تھا
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ، مِنْ بَنِي عَبَّادٍ يُقَالَ لَهُ: عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مَا كَانَتِ الذِّرَاعُ أَحَبَّ اللَّحْمِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنَّهُ كَانَ لَا يَجِدُ اللَّحْمَ إِلَّا غِبًّا، وَكَانَ يَعْجَلُ إِلَيْهَا لِأَنَّهَا أَعْجَلُهَا نُضْجًا»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بازو (بونگ) کا گوشت دوسرے گوشت سے زیادہ محبوب نہیں تھا۔ (لیکن آپ شوق سے اس لیے اسے کھاتے کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت کبھی کبھی میسر آتا، اور آپ اس گوشت کی طرف اس لیے جلدی فرماتے کہ یہ گوشت بہت جلدی پک جاتا ہے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 169]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج: سنده ضعيف : سنن ترمذي: 1838، وقال: حسن . . . اس روایت میں وجہ ضعف یہ ہے کہ عبدالوہاب بن یحییٰ بن عباد کے اپنے دادا سے سماع میں نظر ہے۔ دیکھئیے: [تهذيب التهذيب 641/2 نسخه جديده]
سب سے بہتر گوشت پشت کا ہے
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ قَالَ: سَمِعْتُ شَيْخًا، مِنْ فَهْمٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ أَطْيَبَ اللَّحْمِ لَحْمُ الظَّهْرِ»
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”سب سے اچھا گوشت پشت کا ہے۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 170]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده حسن
تخریج: سنده حسن : سنن ابن ماجه: 3308 تنبیہ: الشیخ الفہمی سے مراد محمد بن عبداللہ بن ابی رافع ہے، جسے حاکم اور ذہبی نے (تصحیح حدیث کے ذریعے سے) ثقہ قرار دیا ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمَؤَمَّلِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین سالن سرکہ ہے۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 171]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج: صحيح : اس روایت کی سند سفیان بن وکیع اور عبداللہ بن مومل کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن اس کا صحیح شاہد گزر چکا ہے۔ دیکھئے حدیث سابق:150
سرکے والا گھر سالن سے خالی نہیں ہوتا
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ثَابِتٍ أَبِي حَمْزَةَ الثُّمَالِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ هَانِئِ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَعِنْدَكِ شَيْءٌ؟» فَقُلْتُ: لَا إِلَّا خُبْزٌ يَابِسٌ وَخَلٌّ، فَقَالَ: «هَاتِي، مَا أَقْفَرَ بَيْتٌ مِنْ أُدْمٍ فِيهِ خَلٌّ»
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کچھ (کھانے کو) ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں! ہاں صرف خشک روٹی اور سرکہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے آؤ، جس گھر میں سرکہ ہو اس میں سالن کی محتاجگی نہیں ہوتی۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 172]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج: سنده ضعيف : سنن ترمذي: 1841، وقال: حسن غريب . . . اس روایت کی سند دو وجہ سے ضعیف ہے: ➊ ابو حمزہ الثمالی ضعیف ہے۔ دیکھئیے: [تقريب التهذيب:818] ➋ اس روایت میں شعبی رحمہ اللہ کے ام ہانی رضی اللہ عنہا سے سماع میں نظر ہے۔ مستدرک الحاکم (54/4 ح6875) میں اس کا ضعیف شاہد بھی ہے۔ دیکھئیے: انوار الصحفیہ (ص235) SB فائدہ EB: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نعم الادام الخل، ما اقفر بيت فى خل بہترین سالن سرکہ ہے اور جس گھر میں سرکہ ہے وہ سالن سے خالی نہیں ہے۔ [مسند احمد 353/3 ح 14807، وسنده حسن] نیز دیکھئیے: [صحيح مسلم 2052 ] یہ صحیح حدیث ابوحمزہ الثمالی (ضعیف) کی روایت سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ والحمد لله
سرید تمام کھانوں سے بہتر ہے
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ»
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسا کہ ثرید کی تمام کھانوں پر۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 173]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سندہ صحیح : سنن ترمذي 1834، وقال: حسن صحيح . صحيح بخاري: 5418 . صحيح مسلم: 2431
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تمام عورتوں سے افضل ہیں
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيُّ أَبُو طُوَالَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسا کہ ثرید کی تمام کھانوں پر۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 174]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : سنن ترمذي:3887، وقال:حسن صحيح . صحيح بخاري: 3770 . صحيح مسلم: 3446
آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ «رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مِنْ أَكْلِ ثَوْرِ أَقِطٍ، ثُمَّ رَآهُ أَكَلَ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پنیر کے ٹکڑے کھانے سے وضو کیا پھر (کسی دوسری دفعہ) دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بکری کے شانے کا گوشت کھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو نہیں کیا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 175]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : صحيح ابن خزيمه: 42 . صحيح ابن حبان: 217 . مسند احمد: 389/2 ح 9090
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا ولیمہ کھجوروں اور ستو سے ہوا
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِهِ وَهُوَ بَكْرُ بْنُ وَائِلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِتَمْرٍ وَسَوِيقٍ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ (صفیہ بنت حیی) رضی اللہ عنہا کا ولیمہ کھجور اور ستو سے کیا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 176]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج: صحيح : سنن ترمذي: 1095. 1096، وقال: حسن غريب . سنن ابن ماجه: 1909 . سنن ابي داود: 3744 اس روایت کی سند امام ابن شہاب الزہری کے عنعنے کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن صحیح بخاری (371) اور صحیح مسلم (1365) وغیرہما میں اس کے شواہد موجود ہیں۔ دیکھئے: [ مسند الحميدي بتحقيقي:1194]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرغوب کھانا
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي فَائِدٌ، مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ جَدَّتِهِ سَلْمَى، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، وَابْنَ عَبَّاسٍ، وَابْنَ جَعْفَرٍ أَتَوْهَا فَقَالُوا لَهَا: اصْنَعِي لَنَا طَعَامًا مِمَّا كَانَ يُعْجِبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُحْسِنُ أَكْلَهُ. فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ لَا تَشْتَهِيهِ الْيَوْمَ قَالَ: بَلَى اصْنَعِيهِ لَنَا. قَالَ: فَقَامَتْ فَأَخَذَتْ مِنْ شَعِيرٍ فَطَحَنَتْهُ، ثُمَّ جَعَلَتْهُ فِي قِدْرٍ، وَصَبَّتْ عَلَيْهِ شَيْئًا مِنْ زَيْتٍ وَدَقَّتِ الْفُلْفُلَ وَالتَّوَابِلَ فَقَرَّبَتْهُ إِلَيْهِمْ، فَقَالَتْ: «هَذَا مِمَّا كَانَ يُعْجِبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُحْسِنُ أَكْلَهُ»
عبیداللہ بن علی، اپنی دادی سلمیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حسن بن علی، سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابن جعفر رضی اللہ عنہم اجمعین ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہمارے لیے وہ کھانا تیار کیجیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھا اور آپ اسے اچھی طرح تناول فرماتے تھے، تو وہ فرمانے لگیں: بیٹا! آج کل تم ایسا کھانا پسند نہیں کرو گے، انہوں نے کہا: کیوں نہیں! آپ ہمارے لیے بنائیں، وہ اٹھیں، کچھ جو لیے، انہیں پیسا، پھر انہیں ایک ہنڈیا میں ڈال دیا، اور اس پر کچھ تیل بھی ڈال دیا، پھر کچھ مرچیں اور مصالحے کوٹ کر ڈال دیے، پھر ان کو پیش کیا اور کہنے لگیں: یہ کھانا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے رغبت سے تناول فرماتے تھے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 177]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج: سندہ ضعیف : المعجم الكبير للطبراني: 24/299 ح759 اس روایت کی سند دو وجہ سے ضعیف ہے: ➊ عبید اللہ بن علی قول راجح میں لین الحدیث ہے۔ دیکھیے: [تقريب التهذيب 4322 ] ➋ فضیل بن سلیمان النمیری جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔ امام ولی الدین ابو زرعہ ابن العراقی نے کہا: فقد ضعفہ الجمھور [ طرح التثريب ج 2 ص 66 ] SB فائدہ: EB صحیح بخاری میں فضیل بن سلیمان کی تمام احادیث متابعات میں ہیں اور صحیح و حسن ہیں۔ دیکھئیے: [هدي الساري مقدمه فتح الباري ص 435 حرف الفاء]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت بہت محبوب تھا
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلِنَا فَذَبَحْنَا لَهُ شَاةً، فَقَالَ: «كَأَنَّهُمْ عَلِمُوا أَنَّا نُحِبُّ اللَّحْمَ» وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ"
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک بکری ذبح کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”انہوں نے ایسے کیا گویا کہ انہیں معلوم تھا کہ ہم گوشت کو پسند کرتے ہیں۔“ اس روایت میں ایک قصہ ہے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 178]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج: سنده ضعيف : یہ روایت درج ذیل علتِ قادحہ کی وجہ سے ضیعف ہے: امام سفیان ثوری رحمہ اللہ بہت بڑے ثقہ امام اور امیر المومنین فی الحدیث تھے، لیکن مدلس بھی تھے، جیسا کہ ان کے شاگردوں اور جلیل القدر محدثین کرام سے ثابت ہے۔ امام یحییٰ بن سعید القطان نے فرمایا: میں نے سفیان (ثوری) سے حدثني اور حدثنا (یعنی تصریحِ سماع) کے بغیر کچھ بھی نہیں لکھا سوائے دو حدیثوں کے۔ الخ [كتاب العلل و معرفة الرجال للامام احمد 242/1 فقره: 318 وسنده صحيح ] یہ دو حدیثیں انہوں نے بیان کر دیں، جیسا کہ کتاب مذکور میں درج ہے۔ یحیٰی القطان نے اپنے استاذ سے تصریحِ سماع کے بغیر حدیثیں کیوں نہیں لکھیں؟ وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک امام سفیان ثوری مدلس تھے، نیز امام یحیٰی بن معین نے فرمایا: وكان يدلس اور وہ (سفیان ثوری) تدلیس کرتے تھے۔ [كتاب الجرح والتعديل 225/4 ملخصا وسنده صحيح ] امام ابن المدینی نے فرمایا: لوگ سفیان (ثوری) کی حدیث میں یحییٰ القطان کے محتاج ہیں، کیونکہ وہ مصرح بالسماع روایات بیان کرتے تھے۔ [الكفايه ص 362 وسنده صحيح ] روایت مذکورہ بالا ہمارے علم کے مطابق یحییٰ القطان نے نہیں، بلکہ ابواحمد الزبیری، اور وکیع (مسند احمد 303/3 ح 14245، صحیح ابن حبان، الاحسان: 980) نے تصریحِ سماع کے بغیر بیان کی ہے۔ اصول حدیث کا مشہور مسئلہ ہے کہ صحیحین کے علاوہ دوسری کتابوں میں مدلس کی عن والی روایت (سماع اور معتبر متابعت و شواہد کے بغیر) ضعیف ہوتی ہے، لہٰذا ہم اصول کی وجہ سے مجبور ہیں کہ اس روایت کو بلحاظ سند ضعیف قرار دیں اور یاد رہے کہ كانهم علموا انا نحب اللحم کے بغیر یہ حدیث دوسرے طرق سے صحیح ہے۔ مثلاً دیکھئے: سنن دارمي (ح 46 مطولا وسنده صحيح اور صحيح بخاري 2801)
آگ پر پکی ہوئی چیز کھانا ناقض وضو نہیں اور عورت کا ذبیحہ جائز ہے
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، أَنَّهُ سمعَ جَابِرًا، قَالَ سُفْيَانُ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فذَبَحَتْ لَهُ شَاةً فَأَكَلَ مِنْهَا، وَأَتَتْهُ بِقِنَاعٍ مِنْ رُطَبٍ، فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ تَوَضَّأَ لِلظُّهْرِ وَصَلَّى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَأَتَتْهُ بِعُلَالَةٍ مِنْ عُلَالَةِ الشَّاةِ، فَأَكَلَ ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ»
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ ایک انصاری عورت کے پاس تشریف لے گئے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک بکری ذبح کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کھایا، اور پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تر کھجوروں کا ایک تھال لائی، آپ نے اس سے (بھی کھجوریں) تناول فرمائیں، پھر ظہر کا وضو کیا اور نماز پڑھی، پھر واپس آئے تو اس عورت نے بکری کا باقی ماندہ گوشت بھی پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تناول فرمایا، پھر عصر کی نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 179]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج: صحيح : سنن ترمذي:80 . سنن ابي داود: 191 اس حدیث کی دو سندیں ہیں: ➊ ابن عقیل والی، یہ سند ضعیف ہے۔ ➋ ابن المنکدر والی، یہ سند صحیح ہے۔
مریض آدمی مضر صحت چیزوں سے پرہیز کرے
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ، وَلَنَا دَوَالٍ مُعَلَّقَةٌ، قَالَتْ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ وَعَلِيٌّ مَعَهُ يَأْكُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «مَهْ يَا عَلِيُّ، فَإِنَّكَ نَاقِهٌ» ، قَالَتْ: فَجَلَسَ عَلِيٌّ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ، قَالَتْ: فَجَعَلْتُ لَهُمْ سِلْقًا وَشَعِيرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «مِنْ هَذَا فَأَصِبْ فَإِنَّ هَذَا أَوْفَقُ لَكَ»
سیدہ ام المنذر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ہمارے ہاں کچی کھجوروں کے کچھ خوشے لٹکے ہوئے تھے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ کھانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی! ٹھہر جاؤ، ٹھہر جاؤ، تم ابھی ابھی بیماری سے صحت یاب ہونے کی وجہ سے کمزور ہو۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیٹھے رہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھانے لگے، سیدہ ام المنذر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پھر میں نے ان کے لیے چقندر اور جو پکائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اس سے کھاؤ، یہ تیرے لیے زیادہ موافق ہے۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 180]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده حسن
تخریج: سنده حسن : سنن ترمذي: 2037 وقال: حسن غريب . . . . المستدرك: 407/4 وصححه الحاكم ووافقه الذهبي . نيز ديكهئے سنن ابي داود: 3856 اور سنن ابن ماجه: 3442
نفلی روزہ عذر کی وجہ سے توڑا جا سکتا ہے
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينِي فَيَقُولُ: «أَعِنْدَكِ غَدَاءٌ؟» فَأَقُولُ: لَا. قَالَتْ: فَيَقُولُ: «إِنِّي صَائِمٌ» . قَالَتْ: فَأَتَانِي يَوْمًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ قَالَ: «وَمَا هِيَ؟» قُلْتُ: حَيْسٌ قَالَ: «أَمَا إِنِّي أَصْبَحْتُ صَائِمًا» قَالَتْ: ثُمَّ أَكَلَ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لاتے اور فرماتے: ”کیا تمہارے پاس صبح کے وقت کا کھانا ہے؟“ تو (اگر) میں کہتی: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”میں روزہ سے ہوں۔“ فرماتی ہیں: ایک دن میرے پاس کچھ آیا تو میں نے کہا: یا رسول اللہ! میرے پاس ایک ہدیہ آیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: حیس (پنیر اور خشک کھجوروں کا حلوہ) ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں صبح سے روزہ سے تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 181]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج: صحيح : سنن ترمذي:734 وقال: هذا حديث حسن . صحيح مسلم: 1154، ترقيم دار السلام: 2714 - 2715 . سنن ابي داود: 2455 من طرق عن طلحة بن يحييٰ به
کھجور کا استعمال بطور سالن
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ الْأَعْوَرِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ كِسْرَةً مِنْ خُبْزِ الشَّعِيرِ فَوَضَعَ عَلَيْهَا تَمْرَةً وَقَالَ: «هَذِهِ إِدَامُ هَذِهِ وَأَكَلَ»
سیدنا یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے جو کی روٹی کا ایک ٹکڑا لیا اور اس پر کھجور رکھ کر فرمایا: ”یہ اس روٹی کا سالن ہے۔“ اور تناول فرما لیا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 182]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج: سنده ضعيف : سنن ابي داود: 3830،3260 اس روایت کی سند یزید بن ابی امیہ الاعور مجہول کی وجہ سے ضیعف ہے۔ دیکھئیے: [تقريب التهذيب:7690] اور [انوار الصحيفه ص 119]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ثفل پسند تھا
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْجِبُهُ الثُّفْلُ» قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «يَعْنِي مَا بَقِيَ مِنَ الطَّعَامِ»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو باقی ماندہ (کھانا) بڑا پسند تھا۔ امام ترمذی کے شیخ عبداللہ بن عبدالرحمان فرماتے ہیں کہ باقی ماندہ سے مراد کھانے سے جو بچا ہوا ہو۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 183]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج: صحيح : المستدرك (155/4.116 ح 711) وصححه الذهبي. مسند احمد (220/3 ح 1300) . شعب الايمان للبيهقي (5924، نسخه محققه: 5524) . المختارة للضياء المقدسي (2012) اس میں کوئی شک نہیں کہ امام حمید الطّویل مدلس تھے، لیکن ان کے شاگرد امام شعبہ نے فرمایا: ” لم يسمع حميد من انس الا الربعة وعشرين حديثا، والباقي سمعها او اثبته فيها ثابت حمید نے انس رضی اللہ عنہ سے صرف چوبیس (24) حدیثیں سنیں اور باقی ثابت (البنانی) سے سنیں یا انہوں نے سمجھایا۔ [تاريخ ابن معين، رواية الدوري: 4582 و سنده صحيح ] یہ قول ذکر کر کے حافظ علائی نے فرمایا: پس اس لحاظ سے یہ روایتیں مرسل بنتی ہیں، جن کا واسطہ معلوم ہو چکا ہے اور وہ (واسطہ ثابت البنانی) ثقہ حجت تھے۔ [جامع التحصيل ص 168، رقم 144 ] امام حمید کے بھانجے اور شاگرد امام حماد بن سلمہ نے فرمایا: عامة ما يروي حميد عن انس سمعه من ثابت حمید نے انس رضی اللہ عنہ سے جو عام روایتیں بیان کیں، وہ انھوں نے ثابت سے سنی تھیں۔ [الجعديات للبغوي: 1469، وسنده حسن، دوسرا نسخه: 1519 ] حافظ ابن حبان نے فرمایا: وكان يدلس، سمع من انس بن مالك ثمانية عشر حديثا وسمع الباقي من فدلس عنه اور وہ (حمید الطّویل) تدلیس کرتے تھے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اٹھارہ حدیثیں سنیں اور باقی ثابت (البنانی) سے سنیں، پھر ان سے تدلیس کر دی۔ [ كتاب الثقات 148/4 ] امام ابن عدی نے فرمایا: اور انھوں نے باقی (تمام) روایات ثابت (البنانی) سے سنیں، وہ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیں۔ [ الكامل 684/2، دوسرا نسخه 67/3 ] ثابت ہوا کہ حمید اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے درمیان تمام مدلس روایات کا واسطہ ثابت البنانی (ثقہ راوی) تھے، لہٰذا حمید کی انس رضی اللہ عنہ سے عن والی روایت بھی صیح ہے۔ SB تنبیہ: EB اس سلسلے میں راقم الحروف کا اپنی تمام سابقہ عبارات سے رجوع کا اعلان ہے۔
← پچھلی کتاب #25 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #27 →