📖 شمائل ترمذی (Shamail al-Tirmidhi) • تمام کتب ↗

بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الطَّعَامِ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے کے وقت وضوء کے طریقے کا بیان

کتاب #27 • کل احادیث: 3
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
کھانے سے پہلے کونسا وضو مستحب ہے ؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ الطَّعَامُ فَقَالُوا: أَلَا نَأْتِيكَ بِوَضُوءٍ؟ قَالَ: «إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے باہر نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا پیش کیا گیا، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین عرض کرنے لگے: کیا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی نہ لے آئیں؟ (تا کہ آپ وضو کر لیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے وضو کرنے کا حکم اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز کے لیے اٹھوں۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 184]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سندہ صحیح : سنن ترمذي:1847، وقال:حسن . سنن ابي داود: 3760، سنن النسائي: 132، صحيح ابن خزيمه: 35 و حسنه البغوي فى شرح السنة: 2835 . نيز ديكهئے آنے والي حديث: 185
کھانے کے لیے شرعی وضو ضروری نہیں
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَائِطِ فَأُتِيَ بِطَعَامٍ، فَقِيلَ لَهُ: أَلَا تَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ: «أَأُصَلِّي فَأَتَوَضَّأُ»
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کی جگہ سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا آپ وضو فرمائیں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں نماز پڑھنے لگا ہوں جو وضو کروں؟“ [شمائل ترمذي/حدیث: 185]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : سنن ترمذي: 1847، تعليقا مختصرا . صحيح مسلم: 374، (دارالسلام:827)
کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونا باعث برکت ہے
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، (ح) وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ الْجُرْجَانِيُّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ أَنَّ بَرَكَةَ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ بَعْدَهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَرَكَةُ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ وَالْوُضُوءُ بَعْدَهُ»
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے تورات میں پڑھا کہ کھانا کھانے کے بعد وضو کرنا (اصطلاحی وضو مراد نہیں بلکہ ہاتھ دھونا اور کلی کرنا مراد ہے) برکت کا سبب ہے، یہ بات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیان کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد وضو کرنا برکت کا باعث ہے۔“ یہ حدیث صرف قیس بن ربیع کے طریق سے پہچانی جاتی ہے اور وہ حدیث میں ضعیف ہے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 186]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج: سنده ضعيف : سنن ترمذي: 1846. وقال: وقيس يضعف فى الحديث . سنن ابي داود: 3761 وقال ابوداود: وهو ضعيف . اس روایت کا راوی قیس بن الربیع جمہور محدثین کے نزدیک بُرے حافظے کی وجہ سے ضعیف تھا، لہٰذا یہ سند ضعیف ہے۔ نیز دیکھئے: [ انوار الصحيفه ص 123 ]
← پچھلی کتاب #26 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #28 →