شمائل ترمذی حدیث نمبر: 156
Shamail al-Tirmidhi 156
کتاب #26: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سالن کا بیان
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُقَالُ: لَهُ عَطَاءٌ، عَنْ أَبِي أَسِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ؛ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ»
سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم زیتون کھاؤ اور اس کا تیل استعمال کرو کیونکہ یہ بابرکت درخت (کا پھل) ہے۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 156]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج:
صحيح : سنن ترمذي: 1852، وقال: هذا حديث غريب . . . مسند احمد: 497/3 ح 16054 . المعجم الكبير للطبراني: 269/19 . 270 ح 597 روایت مذکورہ میں زھیر بن معاویہ نے سفیان ثوری کی متابعت کر رکھی ہے۔ [ديكهئے المعجم الكبير ح 596 ] عطاء سے مراد ابن ابی رباح نہیں بلکہ کوئی اور شخص ہیں اور حاکم و ذہبی دونوں نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ [المستدرك مع التلخيص 397/2۔ 398 ح 3504 ] لہٰذا وہ حسن الحدیث ہیں اور عبد اللہ بن عیسیٰ بھی جمہور کے نزدیک موثق ہونے کی وجہ سے صدوق حسن الحدیث ہیں۔ اس حدیث کے کئی شواہد بھی ہیں۔ مثلا دیکھئے آنے والی حدیث: 157