شمائل ترمذی حدیث نمبر: 157
Shamail al-Tirmidhi 157
کتاب #26: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سالن کا بیان
8: بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ إِدَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
زیتون بابرکت درخت ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ؛ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ» قَالَ أَبُو عِيسَى: «وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ كَانَ يَضْطَرِبُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فَرُبَّمَا أَسْنَدَهُ، وَرُبَّمَا أَرْسَلَهُ»
امیر المؤمنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم زیتون کا تیل (اپنے کھانے میں ملا کر) کھاؤ اور اس کی (اپنے جسم پر) مالش کرو، کیونکہ یہ بابرکت درخت (کا پھل) ہے۔“ ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کی سند میں راوی عبدالرزاق کو اضطراب ہوتا ہے، کبھی اس کو مسند بیان کرتے ہیں اور کبھی مرسل بیان کرتے ہیں۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 157]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده صحيح