📖 شمائل ترمذی • فہرست کتب (Book Index) ↗

شمائل ترمذی

Shamail al-Tirmidhi (الشَّمَائِلُ الْمُحَمَّدِيَّةُ)
📁 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سالن کا بیان (بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ إِدَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) 🏷️ باب: جب تک میں طلب کرتا رہتا تم دیتے رہتے
عربی:
اردو:
شمائل ترمذی حدیث نمبر: 168 Shamail al-Tirmidhi 168
کتاب #26: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سالن کا بیان
18: بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ إِدَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
جب تک میں طلب کرتا رہتا تم دیتے رہتے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: طَبَخْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِدْرًا وَقَدْ كَانَ يُعْجِبُهُ الذِّرَاعُ فَنَاوَلْتُهُ الذِّرَاعَ ثُمَّ قَالَ: «نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ» ، فَنَاوَلْتُهُ ثُمَّ قَالَ: «نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَمْ لِلشَّاةِ مِنْ ذِرَاعٍ فَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ سَكَتَّ لَنَاوَلْتَنِي الذِّرَاعَ مَا دَعَوْتُ»
عبید (ابوعبیدہ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (گوشت کی) ایک ہنڈیا پکائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زراع (بونگ) کا گوشت بہت پسند تھا، تو میں نے آپ کو ایک بونگ پیش کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اور زراع دو۔“ میں نے دوسری پیش کی۔ پھر فرمایا: ”مجھے اور زراع دو۔“ تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک بکری کے کتنے زراع ہوتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم خاموش رہتے تو جب تک میں طلب کرتا جاتا تم مجھے زراع دیتے ہی رہتے۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 168]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف والحديث حسن
تخریج: سنده ضعيف والحديث حسن : مسند احمد: 484/3 - 485 . سنن دارمي: 45 اس روایت کی سند اس وجہ سے ضعیف ہے کہ قتادہ مدلس تھے اور یہ سند عن سے ہے۔ شیخ البانی نے مختصر الشمائل المحمدیہ (143) میں اس روایت کے جو شواہد ذکر کئے ہیں،ان میں سے بعض کی تحقیق درج ذیل ہے: ➊ عن ابی رافع رضی اللہ عنہ [ مسند احمد 8/6 ح23859 ] اس کی سند حسن لذاتہ ہے۔ ➋ عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ [ مسند احمد 517/2 ح 10706 ] اس کی سند محمد بن عجلان مدلس کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے۔ خلاصہ یہ کہ شاہد نمبر 1 کے ساتھ یہ روایت بھی حسن ہے۔
شمائل ترمذی • حدیث #168
166 167 168 169 170
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ